تذکرہ ایبٹ آباد کی ایک خوفناک خونی دشمنی کا : ابیٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے شیر خان عرف شیرا اور بلند خان کی دوستی سیاست کی نذر ہوئی ، اور پھر دشمنی میں ایسی بدلی کہ اب تین نسلیں خون میں نہا گئیں لیکن خون کی ندی بہے چلے جا رہی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا خاندان خون بہا رہا ہے اور کسی کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی۔یہ خونی کہانی شروع ہوتی ہے شیر خان کے ق۔ت۔ل سے جو تحصیل چیئرمین حویلیاں عاطف منصف خان کے دادا تھے، اور پھر پہنچتی ہے عاطف منصف خان تک، جو چند سال قبل لنگڑا کے علاقے میں ایک حم۔لے میں دس ساتھیوں سمیت ق۔ت۔ل کردئیے گیے۔تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عاطف منصف خان پر حم۔لہ اس قدر لرزہ خیز تھا کہ ان کی گاڑی کو ایسی آگ لگی کہ گاڑی میں سوار کوئی ایک فرد بھی بچنے کی کوشش نہ کرسکا۔ تمام افراد کی لا۔شیں جل کر نا قابل شناخت ہو گئیں۔سن ساٹھ کی دہائی میں شیر خان اور بلند خان کی دوستی مشہور تھی۔ لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے لیکن پھر کرسی کی سیاست نے دونوں دوستوں کے درمیان میں تلخی اور دوری پیدا کردی۔ شیر خان اور بلند خان بچپن سے دوست تھے۔ ان کی دوستی میں دوری اس وقت پیدا ہوئی جب ایوب خان دور میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل کونسل کے انتخابات ہوئے تو شیر خان ڈسٹرکٹ کونسل ممبر منتخب ہوئے۔ اسی دن سے ان کی دوستی سے دشمنی کا سفر شروع ہوگیا۔ انہوں نے بتایا 1967 -1968 میں پہلی بار دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی اس وقت شروع ہوئی جب عاطف منصف خان کے دادا جو اس وقت ممبر ضلع کونسل بھی تھے ، کو فا۔ئیرنگ کرکے ق۔ت۔ل کردیا گیا۔شیرخان کے ق۔ت۔ل کا الزام بلندخان پر عائد کیا گیا، اور اس ق۔ت۔ل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا۔ یوں شیر خان کے بعد بلند خان ق۔ت۔ل ہوئے۔ دونوں جانب سے خون ریزی شروع ہو گئی، جو تیسری پشت تک پہنچ گئی ہے۔شیر خان کے بیٹے اور عاطف خان کے والد منصف خان بھی ق۔ت۔ل کردئیے گیے ۔ وہ خاندان کے پہلے فرد تھے جو ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی منتخب ہوئے اور ن لیگ کی حکومت میں وزیر بھی بنے تاہم وہ بھی دشمنی کے اس سلسلہ میں جان گنوا بیٹھے۔منصف خان کو بھی آبائی علاقے ہی میں فا۔ئیرنگ کرکے ق۔ت۔ل کیا گیا۔ منصف خان کا ق۔ت۔ل شیر خان خاندان کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔ جب وہ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور خاص کر کابینہ ممبر بنے تو ان کی طاقت بہت بڑھ گئی۔ اب مخالفین ان کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے۔جب منصف خان کا ق۔ت۔ل ہوا تو ان کا خاندان کافی کمزور ہوگیا۔ اس وقت عاطف خان چھوٹا تھا، عاطف کی ماں نے بچوں کو ایک یورپی ملک بھیج دیا تاکہ انھیں نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔ عاطف خان نے تعلیم باہر سے حاصل کی اور پھر شادی کرکے ادھر ہی زندگی بسر کرنے لگے تاہم چند سال پہلے وہ پاکستان واپس آگئے۔“ یہ دنوں خاندان کا طریقہ کار ہے کہ وہ بچوں کو بیرون ملک بھیج دیتے ہیں ، جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو دشمنی اور بدلہ لینے کے لئے واپس آجاتے ہیں عاطف خان بھی چھوٹی عمر میں یتیم ہوئے تھے ، اس کے بچے بھی اسی عمر میں یتیم ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ مخالف گروہ یعنی بلند خان خاندان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔1967 سے شروع ہونے والے دسشمنی کے اس سلسلہ نے متعدد بے گناہوں سمیت درجنوں افراد کی جان لی۔دشمنی اور خون ریزی سے علاقے میں خوف پھیل گیا تھا جسے روکنے کے لیے 1990 میں علاقے کے بڑے کردار ادا کرنے کے لیے آگے آئے ، انہوں نے دونوں خاندانوں کے مابین جرگے کے ذریعے صلح کرائی۔“جرگے کے بعد تقریبا بیس سے پچیس سال دونوں فریق پرامن رہے لیکن 2012 کے بعد دشمنی نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2015 میں ہری پور کے علاقے میں بلند خان کے بیٹے خان جاوید کے قافلے پر اس وقت حم۔لہ ہوا جب وہ لوکل گورنمنٹ الیکشن کے لیے مہم سے واپس آ رہے تھے ۔ حم۔لے میں ان کے چھ سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے عاطف اور دیگر پانچ افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کرکے گرفتار کر لیا۔ مقدمہ انسداد د۔ہشت۔گردی کی عدالت میں چھ سال تک چلا بالآخر2022 میں ملزمان بری ہو گئے۔سال 2015 میں خان جاوید کیس کی پیروی کے لیے مقامی عدالت آئے تو انھیں عدالت کے احاطے ہی میں فا۔ئیرنگ کرکے ق۔ت۔ل کر دیا گیا۔ اس کے الزام میں عاطف خان کے کزن جنید خان اب بھی جیل میں ہیں۔ دونوں سیاسی خاندانوں کی دشمنی سے علاقے میں ہر وقت خوب اور د۔ہشت چھائی رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دشمنی کی وجہ سے متعدد بے گناہوں سمیت پچیس سے زائد جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ جس میں اکثریت بے گناہ ہیں ، وہ سکیورٹی اہلکار ہیں یا پھر راہگیر۔ کھلے عام دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حم۔لے اور ق۔ت۔ل کیے جاتے ہیں لیکن ملزمان پھر عدالتوں سے بچ کر نکل آتے ہیں، کسی کو سزا نہیں ہوتی۔ یوں یہ سلسلہ چلا جارہا ہے۔دونوں خاندانوں میں کوئی ق۔ت۔ل ہوتا ہے تو حکومت پولیس سمیت تمام ادارے یہاں تک کہ اس علاقے کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن یہ خوُن ریزی جو صرف انائیت کی وجہ سے شروع ہوئی تھی، انائیت کے سبب ہی جاری ہے۔ اور اس کی زد میں زیادہ تر سکیورٹی پر مامور افراد ہی آتے ہیں ۔
