
بچپن میں بچھڑے دو بھائی… ایک پاکستان میں بوڑھا ہو گیا، دوسرا بھارت میں۔ برسوں تک ایک دوسرے تک پہنچنے کی کوششیں بے نتیجہ رہیں، پھر ایک کیمرے کے سامنے سنائی گئی کہانی نے اس تلاش کو نئی امید دے دی۔
یہ کہانی محمد صدیق اور ان کے چھوٹے بھائی محمد حبیب کی ہے، جنہیں بھارت میں سِکا خان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1947 میں تقسیم کے ہنگاموں کے دوران حبیب اپنی والدہ کے ساتھ بھارتی پنجاب کے گاؤں پھُلے والا میں ننھیال گئے ہوئے تھے۔ حالات ایسے بدلے کہ خاندان دوبارہ اکٹھا نہ ہو سکا۔ صدیق پاکستان پہنچ گئے اور بعد میں فیصل آباد کے قریب آباد ہوئے، جبکہ چھوٹا بھائی بھارت ہی میں رہ گیا۔ اس ہنگامے میں ان کے والد جان سے گئے، اور بعد میں والدہ کا سایہ بھی حبیب کے سر سے اٹھ گیا۔ ننھیال اور گاؤں کے لوگوں نے ان کی پرورش میں ساتھ دیا۔
وقت گزرتا گیا، مگر بچھڑے بھائی کی کمی برقرار رہی۔ دونوں کی زندگیاں الگ الگ ملکوں میں آگے بڑھتی رہیں، لیکن اپنے خاندان تک دوبارہ پہنچنے کی خواہش ختم نہ ہوئی۔ پھر 2019 میں پاکستانی یوٹیوبر ناصر ڈھلوں، صدیق کی اس تلاش کا حصہ بنے۔ انہوں نے ان کی کہانی ریکارڈ کی اور اپنے چینل پنجابی لہر پر بھائی کو تلاش کرنے کی اپیل نشر کر دی۔ ایک بزرگ کی آواز اب ان کے گاؤں سے نکل کر سرحد کے دوسری طرف بھی پہنچ سکتی تھی۔
یہ ویڈیو بھارتی پنجاب کے گاؤں پھُلے والا سے تعلق رکھنے والے جگسیر سنگھ تک پہنچی، جو وہاں طبی خدمات انجام دیتے تھے۔ انہوں نے ناصر ڈھلوں سے رابطہ کیا اور سِکا خان تک پہنچنے کی کڑی بنے۔ پاکستان میں ناصر اور ان کی ٹیم، اور بھارت میں جگسیر سنگھ کی مدد سے دونوں بھائیوں کی ویڈیو کال کروائی گئی۔ جس بھائی سے ملنے کے لیے دہائیاں گزر چکی تھیں، اب اس کا چہرہ اسکرین پر سامنے تھا، اس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد دونوں واٹس ایپ کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔
لیکن ویڈیو کال کے بعد بھی گلے ملنے کا انتظار باقی تھا۔ سفری دستاویزات کی تیاری اور پھر کورونا کی پابندیوں نے ملاقات مؤخر کر دی۔ رابطہ 2019 میں ہو چکا تھا، مگر آمنے سامنے بیٹھنے کا موقع جنوری 2022 میں آیا۔ کرتارپور راہداری اس ملاقات کا راستہ بنی، اور دونوں طرف سے کی گئی کوششیں بالآخر ایک طویل انتظار کو ختم کرنے کے قریب پہنچ گئیں۔
10 جنوری 2022 کو کرتارپور میں وہ لمحہ آ گیا۔ محمد صدیق اور سِکا خان 74 سال بعد ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ دونوں گلے ملے اور رونے لگے۔ بچپن میں جدا ہونے والے بھائی اب بزرگ ہو چکے تھے، مگر ایک دوسرے کو سینے سے لگانے کی خوشی ان کے چہروں اور آنسوؤں سے عیاں تھی۔ اس جذباتی ملاقات کی ویڈیو دیکھ کر سرحد کے دونوں طرف بے شمار لوگ متاثر ہوئے۔
اس ملاقات کے پیچھے ناصر ڈھلوں اور جگسیر سنگھ، دونوں کی عملی کوشش تھی۔ ناصر نے صدیق کی اپیل لوگوں تک پہنچائی اور رابطہ قائم کرنے میں مدد کی؛ جگسیر نے بھارت میں سِکا خان تک اس آواز کو پہنچایا اور دونوں بھائیوں کو ملوانے میں ساتھ دیا۔ ان کے تعاون نے ایک ایسی تلاش کو منزل دی جس میں انسانی زندگی کے سات عشرے گزر چکے تھے۔
گزرے ہوئے 74 سال واپس نہیں آ سکتے تھے، مگر ان کوششوں نے دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے گلے لگنے کا موقع دے دیا۔ ناصر ڈھلوں، جگسیر سنگھ اور اس ملاپ میں مدد کرنے والوں کے لیے دل سے احترام—انہوں نے دو بزرگ بھائیوں کی زندگی میں ایک ایسی خوشی واپس پہنچائی، جس کا انتظار کرتے کرتے بچپن بڑھاپے میں بدل گیا تھا۔
ماخذ: ارب نیوز پی کے، یوٹیوب چینل
