کیا واقعی ادکارہ آسیہ نے والد اور ماموں اسے جوئے میں فروخت کر دیا کرتے تھے؟

پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہری دور کی ایک ایسی خوبرو اور باصلاحیت اداکارہ جن کے بغیر اس دور کی پنجابی اور اردو فلموں کا تذکرہ ادھورا رہتا ہے، وہ تھیں ماضی کی مقبول ترین اداکارہ آسیہ۔ ان کا اصل نام فردوس تھا اور وہ 13 نومبر 1953کو بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ کے ایک معروف فنکار گھرانے میں پیدا ہوئیں تھیں۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہو گیا۔ موسیقی سے لگاؤ انہیں ورثے میں ملا تھا اور محض آٹھ سال کی عمر میں انہیں موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی جانے لگی تھی، جبکہ ان کے ماموں اکرم کا انہیں فن کی دنیا میں لانے میں انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی کے نیو ٹاؤن اسکول سے حاصل کی۔

1970 میں آسیہ نے اپنے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے بطور گلوکارہ کیا۔ ان دنوں کراچی میں ثقافتی اور اسٹیج سرگرمیوں کو زبردست فروغ حاصل تھا، اس لیے ریڈیو کے ساتھ ساتھ انہوں نے کراچی کے اسٹیج ڈراموں میں بھی گلوکاری اور اداکاری کے جوہر دکھانا شروع کر دیے۔ انہوں نے معروف استاد غلام حسین جونا گڑھی سے رقص کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور نجی محفلوں میں فردوس جونیئر کے نام سے پرفارم کیا کرتی تھیں۔ ان کے فنی سفر میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ایک اسٹیج ڈرامے کے دوران ان کی جاندار اداکاری اور برجستہ مکالمہ نگاری سے معروف فوٹوگرافر نبی احمد اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے انہیں فلموں میں کام کرنے کا مشورہ دیا۔ ان دنوں نامور فلم ساز و ہدایت کار ریاض شاہد اپنی تاریخی اور بڑی کاسٹیوم فلم غرناطہ کے لیے ایک نئے چہرے کی تلاش میں تھے، چنانچہ نبی احمد کے کہنے پر ریاض شاہد نے انہیں لاہور بلا لیا۔ چونکہ فلمی دنیا میں پہلے سے ہی “فردوس” نامی ایک سینئر اور مصروف اداکارہ موجود تھی، اس لیے ریاض شاہد نے ان کا نام تبدیل کر کے آسیہ رکھ دیا اور یوں فلم “غرناطہ” ان کے فلمی کیریئر کی پہلی فلم بنی جو 1980میں ریلیز ہوئی۔

آسیا کا شمار ان خوش نصیب اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے دور کے صفِ اول کے اور لیجنڈری ہدایت کاروں جیسے کہ ریاض شاہد، شباب کیرانوی، رضا میر، حسن طارق، ایس سلیمان، اسلم ڈار اور مسعود پرویز کے ساتھ کام کیا۔ بطور ہیروئن ان کی پہلی فلم “دل اور دنیا” تھی جس میں انہوں نے شاندار ڈبل رول ادا کیا۔ اگرچہ انہوں نے متعدد بہترین اردو فلموں میں بھی کام کیا، لیکن پنجابی فلموں میں انہیں جو بے پناہ مقبولیت اور دوام ملا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کے کیریئر کی سب سے بڑی اور یادگار فلم نامور ڈائریکٹر کی “مولا جٹ” ثابت ہوئی، جس میں انہوں نے سلطان راہی کے مقابل مولا جٹ کی منگیتر “مکھوں” کا ایسا لازوال اور جاندار کردار ادا کیا کہ یہ کردار پاکستانی فلمی تاریخ کا ایک مستقل استعارہ بن گیا اور پنجابی سنیما میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔

“مکھو” کا یہ کردار صرف ایک سنیمائی کردار نہیں رہا بلکہ پاکستانی لوک کلچر اور پنجابی فلموں کے مزاج میں ایک ایسے دبنگ، مخلص اور نڈر کردار کے طور پر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا جو اپنے حق کے لیے لڑنا جانتا ہے۔ آسیا کی سکرین پر موجودگی اتنی پُرکشش اور جاندار ہوتی تھی کہ وہ ہیرو کے شانہ بشانہ فلم کی کامیابی کی ضمانت بن جاتی تھیں۔ ان کی خوبصورتی میں ایک قدرتی سادگی اور مشرقی روپ تھا جو شائقین کے دلوں پر راج کرتا تھا۔

اپنے کیریئر کے عروج پر پہنچنے کے بعد آسیہ نے اچانک فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ فلمی صنعت کو خیرباد کہنے کے بعد انہوں نے ایک پاکستانی کاروباری شخصیت فاروق میمن سے شادی کی اور پاکستان چھوڑ کر پہلے تھائی لینڈ اور پھر وہاں سے کینیڈا منتقل ہو گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی مڑ کر فلم انڈسٹری کی طرف نہیں دیکھا اور اپنی ازدواجی و گھریلو زندگی میں مصروف ہو گئیں۔ وہ ایک طویل عرصے تک کینیڈا میں ہی مقیم رہیں، جہاں ۹ مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کے انتقال کی اطلاع ملی، جس سے ان کے چاہنے والے سوگوار ہو گئے۔

آسیہ کا فلمی کیریئر تقریباً بیس سال پر محیط رہا، جس دوران انہوں نے کل ۱۸۸ فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے اس تنوع سے بھرپور کیریئر میں ۲۸ اردو اور ۱۶۰ پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ دسمبر ۱۹۸۱ء میں ان کی آخری کامیاب فلم “مولا جٹ ان لندن” ریلیز ہوئی، جبکہ ان کے فنی سفر کی آخری فلم “جالی عکس” تھی۔ آسیہ صرف ایک اداکارہ کا نام نہیں تھا بلکہ وہ پاکستانی سنیما کے اس زریں دور کی علامت تھیں جب فلموں میں کہانی، جذبے اور کرداروں کی سچی روح ہوا کرتی تھی، اور آج بھی وہ اپنے لازوال کرداروں کے ذریعے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ان کے بارے میں بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صرف سنسنی اور ویوز کے لیے یہ واقعہ مشہور کیا گیا کہ انہیں ان کے ماموں ور والد نے جوئے میں بیچ دیا تھا۔ جب وہ جواء ہارتے تو آسیہ کو فلموں میں مفت کام کرنا پڑتا حالانکہ فلمی مبصرین کے مطابق اس بات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا،

ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment