
برصغیر پاک و ہند کے نامور گلوکار اور شہنشاہِ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کی آج سالگرہ ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قوالی کے ایک معروف موسیقار گھرانے سے تھا۔ اپنی بے مثال آواز، منفرد اندازِ گائیکی اور فنی مہارت کی بدولت آپ نے قوالی کو نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت دلائی۔
استاد نصرت فتح علی خان نے قوالی، غزل اور صوفیانہ کلام کے ذریعے موسیقی کی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کا شمار برصغیر کے ان عظیم فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنی جاتی ہے۔
ان کی آخری آرام گاہ فیصل آباد میں جھنگ روڈ پر واقع قبرستان میں ہے۔۔۔وہ لمحہ جب نصرت فتح علی خان نے قوالی کو پوری دنیا سے روشناس کرایا
1985 میں نصرت فتح علی خان صاحب کی زندگی میں ایک ایسا موقع آیا جس نے نہ صرف ان کے کیریئر کو نئی بلندی دی بلکہ قوالی کو بھی عالمی سطح پر ایک منفرد مقام دلایا۔
اسی سال انہیں WOMAD (World of Music, Arts and Dance) فیسٹیول میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہ فیسٹیول معروف برطانوی موسیقار Peter Gabriel کی سرپرستی میں منعقد ہوتا تھا، جہاں دنیا کے مختلف ممالک کے عظیم فنکار اپنی ثقافتی موسیقی پیش کرتے تھے۔
جب نصرت صاحب اسٹیج پر آئے تو مغربی سامعین کی اکثریت اردو، پنجابی یا فارسی نہیں سمجھتی تھی۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے اپنی مخصوص انداز میں حمد، صوفیانہ کلام اور قوالی پیش کرنا شروع کی، پورا ماحول بدل گیا۔ حاضرین زبان تو نہیں سمجھ رہے تھے، مگر ان کی آواز، سروں کی وسعت، جذبے اور روحانی کیفیت نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
پرفارمنس کے اختتام پر حاضرین نے دیر تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ بہت سے غیر ملکی موسیقاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے پہلی بار ایسی آواز سنی ہے جو الفاظ سمجھے بغیر بھی دل پر اثر کرتی ہے۔
اسی فیسٹیول کے بعد Peter Gabriel نے نصرت صاحب کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ بعد ازاں ان کی موسیقی بین الاقوامی سطح پر ریلیز ہوئی، اور وہ یورپ، امریکہ، جاپان اور دنیا کے کئی ممالک میں کنسرٹس کرنے لگے۔
1985 کا یہی موقع وہ سنگِ میل ثابت ہوا جس کے بعد نصرت فتح علی خان صرف پاکستان یا برصغیر کے فنکار نہیں رہے، بلکہ دنیا نے انہیں “The Voice of Sufi Music” اور “Shahenshah-e-Qawwali” کے نام سے پہچاننا شروع کر دیا۔
یہی وہ سال تھا جس نے ثابت کر دیا کہ سچی موسیقی زبان کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب فن میں اخلاص، ریاض اور روحانیت شامل ہو تو وہ دنیا کے ہر انسان کے دل تک پہنچ جاتی
ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس میں قوالی کی روایت کئی نسلوں سے چلی آ رہی تھی۔
ان کے والد استاد فتح علی خان بھی نامور قوال تھے۔ والد کے انتقال کے بعد نصرت فتح علی خان نے کم عمری میں ہی خاندانی قوال پارٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اپنی منفرد گائیکی سے قوالی کو نئی پہچان دی۔
ان کے بھائی فرخ فتح علی خان نے بھی ان کے ساتھ ہارمونیم اور دیگر سازوں پر فن کا مظاہرہ کیا، جبکہ راحت فتح علی خان نے بھی ان کی شاگردی میں گائیکی کے سفر کا آغاز کیا۔
نصرت فتح علی خان کی بلند اور گونج دار آواز، طویل تانوں اور سُروں پر غیر معمولی گرفت نے قوالی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے فن نے برصغیر کی موسیقی کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔
ان کی قوالیوں میں ’’اللہ ہو اللہ ہو‘‘، ’’دمادم مست قلندر‘‘، ’’علی مولا علی مولا‘‘ اور ’’یادِ نبی ﷺ‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی، جبکہ امیر خسرو کا کلام ’’آج رنگ ہے‘‘ بھی ان کی مقبول پیشکشوں میں شامل ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس) سے نوازا۔
نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن میں 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، تاہم ان کی آواز، فن اور یادگار کلام آج بھی دنیا بھر میں سنے اور پسند کیے جاتے ہیں۔
