اسکول پر جہاز گرنے کے بعد جلتی ہوئی عمارت میں گھس کر بچوں کو بچانے ہوئے اپنی جان قربان کرنیوالی ٹیچر مہرین چوہدری۔۔۔

1 جولائی 2025 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فضائیہ کا F-7 BGI لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کے باعث مائل اسٹون سکول اینڈ کالج کے کیمپس پر جا گرا۔ زوردار دھماکے کے بعد عمارت آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آگئی جبکہ متعدد بچے جلتے کلاس رومز اور ملبے میں پھنس گئے۔

اس قیامت خیز منظر میں جہاں ہر شخص اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگ رہا تھا، 46 سالہ انگلش ٹیچر محرین چودھری بچوں کو بچانے کے لیے بار بار جلتے ہوئے کلاس رومز میں داخل ہوتی رہیں۔ ان کے بھائی منافع مجیب چودھری نے Reuters کو بتایا کہ محرین کے اپنے کپڑے بھی آگ پکڑ چکے تھے، مگر وہ پھر بھی نہ رکیں اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر باہر نکالتی رہیں۔ ان کے مطابق درست تعداد معلوم نہیں، لیکن محرین نے کم از کم 20 بچوں کی جان بچائی۔

جب ان کے شوہر نے فون کرکے التجا کی کہ وہ وہاں سے نکلیں اور اپنے بچوں کا خیال کریں تو محرین نے جواب دیا: ’’یہ بھی میرے بچے ہیں، وہ جل رہے ہیں، میں انہیں کیسے چھوڑ دوں؟‘‘

دوسروں کے بچوں کو زندگی دینے والی یہ بہادر ٹیچر خود تقریباً پورے جسم پر شدید جھلسنے کے باعث اسی روز جان کی بازی ہار گئیں۔ وہ اپنے پیچھے شوہر اور دو نوعمر بیٹے چھوڑ گئیں۔ Reuters کی رپورٹ کے وقت حادثے میں پائلٹ سمیت کم از کم 29 افراد جاں بحق ہو چکے تھے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ ماہرین چودھری کو اگلے روز ان کے آبائی ضلع نیلفاماری میں سپرد خاک کردیا گیا۔ انہوں نے اپنی قربانی سے ثابت کردیا کہ ایک حقیقی استاد کے لیے کلاس میں بیٹھا ہر بچہ اپنی اولاد کی طرح ہوتا ہے۔

Leave a Comment