جلتےہوئے آئل ٹینکر کو پٹرول پمپ سے دور لیجا کر لاہور کو بڑی تباہی سے بچانے والے ڈرائیور فخر حسین۔۔۔

لاہور کے 56 سالہ رہائشی فخر حسین معمول کے مطابق اپنے پی ایس او آئل ٹینکر میں فیول لے کر ایک پٹرول پمپ پر پہنچے۔ انہوں نے پہلے تمام حفاظتی اقدامات مکمل کیے اور پھر ٹینکر سے پٹرول ان لوڈ کرنا شروع کر دیا۔ ان لوڈنگ کے دوران فضا میں پٹرول کے آتش گیر بخارات پھیل جاتے ہیں، اسی لیے معمولی سی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی دوران ایک رکشہ پٹرول بھروانے کے لیے پمپ پر آیا۔ رکشے میں بیٹھے ایک بزرگ سگریٹ پی رہے تھے۔ پمپ کے گارڈ نے فوراً انہیں سگریٹ بجھانے کا کہا، مگر گھبراہٹ میں انہوں نے سگریٹ پاؤں تلے مسلنے کی بجائے پٹرول پمپ کے فرش پر پھینک دی۔ آتش گیر بخارات نے فوراً آگ پکڑ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے پورے پمپ اور آئل ٹینکر تک جا پہنچے۔

اچانک ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ جو لوگ بھاگ سکتے تھے، خاص طور پر نوجوان، اپنی جان بچانے کے لیے پٹرول پمپ کی دیواریں پھلانگ کر وہاں سے نکل گئے۔ فخر حسین کے ساتھ موجود ساتھی نے بھی ان سے کہا کہ فوراً یہاں سے بھاگو، ورنہ ٹینکر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

فخر حسین نے ایک لمحے کے لیے اردگرد نظر دوڑائی۔ انہوں نے دیکھا کہ ابھی بھی کئی گاڑیوں میں بچے، خواتین اور بزرگ موجود ہیں۔ خود چھ بچوں کے باپ ہونے کے باعث ان کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال آیا کہ اگر وہ بھی اپنی جان بچا کر بھاگ گئے تو ان بے بس لوگوں کا کیا ہوگا۔

وہ جانتے تھے کہ ٹینکر کے مرکزی حصے میں تقریباً چودہ ہزار لیٹر پٹرول موجود ہے۔ اگر آگ وہاں تک پہنچ گئی تو ایسا دھماکہ ہوگا جس سے نہ صرف پورا پٹرول پمپ بلکہ اردگرد موجود بے شمار لوگ بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس لمحے انہوں نے اپنی جان سے زیادہ دوسروں کی جانوں کو اہمیت دی۔

فخر حسین جلتے ہوئے آئل ٹینکر میں بیٹھ گئے، انجن اسٹارٹ کیا اور شعلوں میں گھری گاڑی کو پٹرول پمپ سے نکال کر آبادی سے دور ایک مقام تک لے گئے۔ اس جرات مندانہ فیصلے کی قیمت انہوں نے خود اپنے جسم سے ادا کی۔ ٹینکر نکالتے ہوئے وہ بری طرح جھلس گئے، ان کی آنکھیں بھی متاثر ہوئیں اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کافی عرصہ زیرِ علاج رہے۔ بعد ازاں ان کے علاج کے اخراجات اسی پٹرول پمپ کی انتظامیہ نے برداشت کیے۔

فخر حسین نے اس دن صرف ایک جلتا ہوا ٹینکر نہیں ہٹایا تھا، بلکہ ایک ممکنہ بہت بڑے سانحے کو بھی ٹال دیا تھا۔ اگر وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ جاتے تو شاید اس آگ کے نتائج کہیں زیادہ خوفناک ہوتے۔

Leave a Comment