برے وقت میں کسمپرسی کا شکار ہونے والے ہر دل عزیز فنکار۔۔۔

مستانہ اور ببو برال کی جوڑی نے برسوں اسٹیج پر قہقہے بکھیرے۔ پھر دونوں بیمار ہوئے۔ مستانہ کے بیٹے نے بتایا کہ والد کے علاج پر روزانہ پانچ ہزار روپے خرچ ہو رہے تھے، جو خاندان کے بس سے باہر تھے۔ ببو برال کی جمع پونجی علاج پر خرچ ہوگئی تو انہیں بھی دوستوں اور حکومت سے مدد مانگنا پڑی۔ اپریل 2011 میں چند دن کے فرق سے دونوں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

عینک والا جن کی بل بتوڑی، نصرت آرا، فالج کے بعد علاج کے لیے حکومت سے اپیل کرتی رہیں۔ اسی ڈرامے کے زکوٹا جن، منا لاہوری، نے بھی بیماری کے دوران کہا کہ پہلے ملنے والی امداد ختم ہوچکی ہے اور ان کے پاس مزید علاج کے پیسے نہیں۔ دونوں کردار آج بھی لوگوں کو یاد ہیں؛ دونوں فنکار بیماری اور مالی مشکلات سے گزر کر رخصت ہوئے۔

طارق ٹیڈی جگر اور سانس کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو ان کے اہلِ خانہ نے علاج کے لیے حکام سے مدد مانگی۔ جاوید کوڈو نے فالج اور مالی مشکلات کے بعد حکومت سے باقاعدہ درخواست کی؛ وہ عوامی چندہ مہم نہیں چاہتے تھے، کیونکہ اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ طارق ٹیڈی 2022 میں اور جاوید کوڈو 2025 میں انتقال کر گئے۔

لکی ڈیئر کے اہلِ خانہ نے بھی ان کے علاج کے لیے اپیل کی۔ پنجاب حکومت نے انہیں امداد دی، مگر پھیپھڑوں اور ذیابیطس کی طویل بیماری کے بعد وہ ستمبر 2025 میں چل بسے۔

یہ کہانیاں آپ تک اس لیے پہنچیں ہیں کیونکہ یہ مشہور لوگ تھے لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان میں ایسی بہت سی عام لوگوں کی کہانیاں بھی ہیں جو آج تک منظرِعام پر ہی نہیں آئیں۔ اللّٰہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

Leave a Comment