
سیلاب کا پانی اچانک آیا تو بزرگ رب نواز اور ان کے نوجوان بیٹے کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا مکان پانی کی زد میں آ گیا، چھت اور دیواریں گر گئیں اور دونوں باپ بیٹا پانی میں ڈوب گئے۔ جس گھر میں وہ رہتے تھے، وہ انہی کے سامنے ملبے میں بدل چکا تھا۔ چاروں طرف پانی تھا اور بہاؤ اتنا شدید تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں یا اپنی جان کیسے بچائیں۔ اس خوفناک صورتِ حال میں بیٹے کو اپنی جان کے ساتھ اپنے بوڑھے باپ کی زندگی بھی بچانی تھی، لیکن وہاں نہ کوئی محفوظ جگہ تھی اور نہ ہی مدد کے لیے کسی کا ان تک پہنچنا آسان تھا۔
ایسے میں نوجوان بیٹے نے ایک درخت کا سہارا لیا اور اپنے رومال یا کپڑے کی مدد سے والد کو اس کے ساتھ باندھ دیا، تاکہ تیز بہاؤ انہیں بہا کر نہ لے جائے۔ پھر وہ خود بھی اسی درخت کے ساتھ بندھ گیا۔ اب دونوں پانی میں پھنسے ہوئے تھے اور اسی درخت کے سہارے جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ رات کے وقت تقریباً تیس سے پینتیس رشتے دار انہیں نکالنے کے لیے پہنچے، مگر پانی گردن تک گہرا تھا اور اس کا زور اتنا زیادہ تھا کہ جو بھی آگے بڑھتا، وہ خود ڈوبنے لگتا۔ اپنے پیاروں کو سامنے دیکھنے کے باوجود کوئی ان تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ کوششیں ناکام ہوتی رہیں اور رشتے دار اس خدشے سے رونے لگے کہ شاید اب دونوں باپ بیٹا زندہ نہ بچ سکیں۔ مگر اس اندھیرے اور بے رحم پانی میں بیٹا اپنے باپ کے ساتھ بندھا رہا، اور دونوں پوری رات زندگی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
تقریباً بارہ گھنٹے اسی حالت میں گزر گئے۔ جب صبح ہوئی اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو رشتے داروں اور دوسرے مقامی لوگوں نے مل کر دونوں کو پانی سے باہر نکالا۔ ان کے جسموں میں کافی پانی جا چکا تھا اور دونوں کے سروں پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ انہیں پہلے مقامی شخص ماسٹر اللہ نواز کے ہاں لے جایا گیا، جہاں ابتدائی مدد اور پٹیاں کی گئیں۔ اس کے بعد گدھا گاڑی کے ذریعے مرکزی سڑک تک پہنچایا گیا اور وہاں سے تونسہ شریف کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ گھر تباہ ہو چکا تھا، دونوں زخمی تھے اور اب انہیں علاج کی ضرورت تھی۔ سر کی چوٹوں کی وجہ سے دونوں کو کئی ٹانکے بھی لگانے پڑے۔
اردو پوائنٹ کے میزبان زین بابو سے گفتگو کرتے ہوئے رب نواز نے علاج کے حوالے سے بھی اپنا دکھ بیان کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری ہسپتال میں علاج اور ٹانکوں کے لیے ان سے آٹھ ہزار روپے لیے گئے۔ ان کے بقول، اس وقت ان کے پاس یہ رقم موجود نہیں تھی، اس لیے بیٹے نے لوگوں سے ادھار مانگ کر پیسے ادا کیے۔ بزرگ والد یہ تفصیل بتاتے ہوئے رونے لگے۔ ایک طرف گھر اور جمع پونجی کی تباہی تھی، دوسری طرف جسم پر زخم، اور پھر علاج کے لیے قرض مانگنے کی مجبوری۔ سیلاب کے پانی سے نکل آنے کے بعد بھی اس خاندان کی مشکلات ختم نہیں ہوئی تھیں۔
انٹرویو کے وقت رب نواز اور ان کا خاندان ایک مقامی شخص کے دیے ہوئے سکول یا مدرسے کے کمرے میں رہ رہا تھا، کیونکہ ان کا اپنا مکان اور چار دیواری مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ ان کے باقی بچے بھی مختلف جگہوں پر بکھر گئے تھے۔ رب نواز نے بتایا کہ وہ مزدوری کرکے روزانہ دو سو یا تین سو روپے کماتے اور اسی سے گزارا کرتے تھے، لیکن سیلاب نے ان سے گھر کا سہارا بھی چھین لیا۔ ان کے مطابق، اُس وقت تک ان کے پاس کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی تھی؛ صرف بابر نامی ایک مقامی شخص نے کچھ راشن دیا تھا۔ اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے وہ زار و قطار رو پڑے۔ اس پوری روداد میں بیٹے کی وہ کوشش دل میں رہ جاتی ہے جس نے خوفناک بہاؤ کے درمیان اپنے بوڑھے باپ کو درخت کے ساتھ باندھا، خود بھی ان کے ساتھ بندھ گیا اور بارہ گھنٹے تک ان کی زندگی بچانے کی جدوجہد کرتا رہا۔
