یتیم لڑکی نے اپنی شادی پر صرف 2مرغیاں مانگیں مگر پورا ملک سونے، چاندی کے زیورات اور تحائف لیکر اس کے گھر پہنچ گیا۔۔۔

شادی میں چند دن باقی تھے، مگر ایک یتیم لڑکی کے پاس اپنی زندگی کی اس خوشی کے لیے بنیادی انتظامات کرنے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ الجزائر کے صوبے عین الدفلیٰ کے قصبے سیدی لخضر کی رہنے والی شہرزاد سے جب اس کی ضرورت پوچھی گئی تو اس نے بہت معمولی سی خواہش ظاہر کی۔ اس کے الفاظ کا مفہوم تھا: ’’مجھے صرف دو مرغیاں دے دیں تاکہ میں اپنی شادی کی رات کھانا کھا سکوں۔‘‘ ایک دلہن کی اتنی چھوٹی سی درخواست سننے والوں کے دلوں کو چھو گئی۔

الجزائری سماجی کارکن حمید فرج نے اس کی حالت اور درخواست ایک ویڈیو کے ذریعے لوگوں کے سامنے رکھی۔ الجزیرہ کی 7 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت شادی میں تقریباً ایک ہفتہ باقی تھا اور وہ ضروری تیاری نہیں کر پائی تھی۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلی تو شہرزاد کی آواز بہت سے ایسے لوگوں تک پہنچ گئی جو اسے جانتے تک نہیں تھے۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کی شادی کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔

قریبی علاقوں کے ساتھ دور دراز سے بھی لوگ مدد لے کر پہنچنے لگے۔ کسی نے کھانے پینے کا سامان دیا، کسی نے نقد رقم پیش کی اور کسی نے شادی کی ضروریات پوری کرنے میں ہاتھ بٹایا۔ زیورات بھی تحفے میں ملے۔ یوں دو مرغیوں کی درخواست سے شروع ہونے والی مدد، ایک دلہن کی شادی کے انتظامات سنبھالنے کی اجتماعی کوشش بن گئی۔ لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا اور اس کی خوشی میں شریک ہوئے۔

شادی کے موقع پر مختلف علاقوں سے آنے والوں نے اسے بھرپور انداز میں رخصت کیا۔ الجزائر کے النهار ٹی وی کی رپورٹ میں سونے، تحائف، نقد امداد اور تقریب کے انتظامات میں لوگوں کی شرکت کے ساتھ، دلہن کے لیے خوب صورت گاڑیوں کے قافلے کا بھی ذکر آیا۔ وہ درخواست جس کا مقصد شادی کی رات کے کھانے کا انتظام تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی تقریب کا سبب بن گئی۔

مقامی ادارے ’’اوراس‘‘ کے مطابق، شادی کی باقاعدہ تقریب 11 اکتوبر 2026 کو ہوئی۔ حمید فرج نے رخصتی کے موقع پر بھی شہرزاد کا ساتھ دیا۔ مدد کا دائرہ اس کی والدہ تک بھی پہنچا؛ پیرس میں مقیم ایک مخیر شخص کی جانب سے خاندان کے لیے گھر بنوانے اور والدہ کے لیے ماہانہ مالی مدد کا اعلان رپورٹ ہوا۔ یہ مستقبل کی مدد کے اعلانات تھے، جن سے خاندان کو شادی کے بعد بھی سہارا دینے کی نیت ظاہر ہوتی ہے۔

شہرزاد نے اپنی خوشی میں شریک ہونے اور مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے دعا کی کہ اللہ ان لوگوں کے دل بھی اسی طرح خوش کرے جیسے انہوں نے اسے خوش کیا، اور دوسری غیر شادی شدہ لڑکیوں کو بھی اچھے رشتے اور مبارک شادیاں نصیب ہوں۔

اس واقعے کی خوب صورتی لوگوں کے عملی قدم میں ہے۔ ایک ضرورت سامنے آئی تو بہت سے ہاتھ اسے پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ ہمارے آس پاس بھی ایسی بیٹیاں اور خاندان موجود ہیں جن کے لیے بظاہر معمولی رقم یا تھوڑا سا راشن بہت بڑی آسانی بن سکتا ہے۔ اللہ شہرزاد کے نئے سفر میں برکت دے اور ہمیں بھی کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس کی خوشی کا سبب بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Comment