شیخوپورہ ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی ذوالقرنین حیدر کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے بچوں کی تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے اپنی زمین اور اپنا ذاتی مکان تک فروخت کر دیا۔ ان کی اہلیہ گریڈ 17 کی سرکاری ملازم ہیں، ان کی ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ اور ذوالقرنین حیدر کی تنخواہ اور جمع پونجی سب بچوں کی تعلیم پر ہی خرچ ہوتی رہی تاکہ کسی بچے کی تعلیم وسائل کی کمی کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔
آج ان کی بڑی بیٹی MBBS مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکی ہیں۔ دوسری بیٹی Doctor of Physical Therapy (DPT) مکمل کرنے کے بعد MPhil کر رہی ہیں۔ تیسری بیٹی UET سے Biomedical Engineering مکمل کر کے NUST سے MS کر رہی ہیں۔ چوتھی بیٹی MSc جغرافیہ مکمل کرنے کے بعد GC University سے MPhil کر رہی ہیں، جبکہ پانچویں بیٹی رِفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے BS (Hons) Medical Imaging Technology کر رہی ہیں۔
ذوالقرنین حیدر کی اس بے مثال جدوجہد کو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے ذوالقرنین حیدر اور ان کے اہلِ خانہ کو خصوصی ملاقات کے لیے مدعو کیا، انہیں سینئر پولیس افسران کے سامنے بطور ایک قابلِ تقلید مثال پیش کیا، اور پانچوں بیٹیوں کو ایک ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا۔
ذوالقرنین حیدر کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر والدین عزم کر لیں تو معاشی مشکلات بھی اولاد کے خوابوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ ایسے والدین یقیناً ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں، جو اپنی آسائشیں قربان کر کے آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرتے ہیں۔
