اچھرہ لاہور:باڈی بلڈر بیٹے اور بہو ک

اچھرہ لاہور : باڈی بلڈر بیٹے اور بہو کی موت ۔۔۔ پس پردہ کہانی کیا ہے ؟ باڈی بلڈر ریحان لطیف کے والد عبدالطیف نے سب کچھ بتا دیا ۔۔۔۔۔ریحان لطیف ایک نامور اور مشہور باڈی بلڈر تھا 12 سال قبل یہ لاہور کے ایک جم میں بطور ٹرینر کام کرتا تھا اسی جم میں مہوش نامی ایک لڑکی بھی لڑکیوں کو ٹریننگ دیتی تھی انہی دنوں میں ریحان اور مہوش ایک دوسرے کے قریب آگئے ۔ ریحان کے کہنے پر اسکے والدین نے مہوش کے گھر والوں سے رشتہ مانگا مگر انہوں نے صاف انکار کردیا، مہوش نے بھی بہت زور لگایا مگر اسکی ایک نہ چلی آخر دونوں نے گھر سے بھاگ کر کورٹ میں نکاح کر لیا ، نکاح کے بعد ریحان مہوش کو گھر لے آیا ۔ ریحان کے والد عبدالطیف پہلے تو اس پر ناراض ہوئے لیکن اب جو ہونا تھا ہو چکا تھا انہوں نے بہو کے سر پر ہاتھ رکھا اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہوش کے والد کو خود فون کرکے ساری بات بتائی اور سمجھایا بھی کہ بچے غلطی کر چکے ہیں اب ہمارا کام ہے ان پر پردہ ڈالیں اور دونوں گھروں کی عزت بچا لیں چنانچہ پھر گھر میں رسمیں ہوئیں ولیمہ ہوا جن میں مہوش اور ریحان دونوں کے گھر والے اور رشتہ دار شریک ہوئے یوں ایک معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا اگلے کچھ سالوں میں ریحان اور مہوش کو اللہ نے دو بیٹوں سے بھی نواز دیا ۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا مگر پچھلے کچھ سالوں سے مہوش کا معمول تھا ہفتے میں 2 سے تین بار میکے جاتی اور رات وہاں رہتی ۔ ریحان نے پہلے تو اعتراض نہ کیا لیکن بیٹوں کی پرورش اور تعلیم کے دوران بیوی کا بار بار ایسے کرنا اسے چبھنے لگا اس نے مہوش کو منع کیا مگر وہ نہ مانی ۔ پھر ریحان نے اس پر نظر رکھنا شروع کردی اور ایک روز مہوش کے والدین کے گھر کے باہر ریحان نے مہوش کو ایک لڑکے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گپیں اور قہقہے لگاتے دیکھ لیا اس نے مہوش کو بازو سے پکڑ کر اور گھسیٹ کر اسکے والدین کے گھر بھیجا اور اس لڑکے کو بری طرح مارا پیٹا ۔۔۔ مہوش شرمندہ ہونے کی بجائے بپھر گئی ۔ ریحان نے مہوش کی ماں کو ساری صورتحال بتائی تو وہ بھی بیٹی کی حمایتی بن گئیں اور کہا ہماری بیٹی ایسا نہیں کرسکتی تلخ کلامی پر ریحان نے غصے میں مہوش کو ایک بار طلاق کا جملہ بول دیا اور گھر آگیا ۔ اس نے والد کو ساری بات بتائی تو بزرگ نے پھر اسے سمجھایا ، دونوں گھروں کی عزت بچانے کی تلقین کی اور تحمل سے کام لینے کو کہا ۔ انہوں نے مہوش کی والدہ سے بھی بات کی جسکے نتیجے میں دو ہفتے قبل دونوں کی صلح ہو گئی اور علمائے کرام کی اجازت پر ریحان گیا اور مہوش کو گھر لے آیا ۔۔۔ 7 اکتوبر کو وقوعہ کے روز ریحان لطیف کو کسی نے مہوش اور ایک لڑکے کی چیٹ کے سکرین شاٹس بھیجے جن میں محبتوں کا بھر پور اظہار دیکھا جا سکتا تھا ، ریحان اپنے کمرے میں گیا اور مہوش سے اسکا موبائل مانگا لیکن مہوش نے موبائل دینے سے انکار کردیا ۔ جس پر غصے میں آکر ریحان نے دراز سے پستو۔ل نکالا اور مہوش کو گو۔لیاں مار دیں اور پھر اس نے پستو۔ل کا ر۔خ ا۔پنی طر۔ف کر لیا جسکے نتیجے میں دونوں اپنے کمرے میں جان بحق ہو گئے ، پولیس آئی دونوں لا۔شیں پوسٹ ۔مارٹم کے لیے ہسپتال لے جائی گئیں جسکے بعد مہوش کی میت اسکے والدین اور بھائی لے گئے جبکہ ریحان کی باڈی اسکے والدین گھر لے آئے تدفین ہو چکی اب دونوں گھروں میں بچوں کی حوالگی پر جھگڑا شروع ہو چکا ہے ۔ یاد رہے کہ مہوش کے بھائی نے اپنی بہن کے ق۔ت۔ل کےمقدمہ میں ریحان لطیف کے والد اور بھائی کو ملوث کردیا ہے اور ان پر اسکی موت کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا ہے ، مہوش کے بھائی نے موقف اختیار کیا ہے کہ نہ صرف ریحان اسکی بہن مہوش کو مارتا تھا بلکہ اسکا سسر اور دیور بھی مہوش کو مارتے تھے ۔ مہوش کا کردار بالکل ٹھیک تھا لیکن ریحان اور اسکے گھر والے سبھی غصے پر قابو نہیں رکھتے تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ۔۔۔۔۔۔ واللہ اعلم #fblifestyle

Leave a Comment