اپنا ححق مانگنے اور سرمایہ داروں سے ٹکرانے کی سزا:موت

اپنا حق مانگنے اور سرمایہ داروں سے ٹکرانے کی سزا موت ۔۔۔۔۔!!! داؤد خیل میانوالی کے اشتہاری مسکین اللہ خان شریف خیل کی کہانی ۔۔ وہ دلیر جوان جو مر گیا مگر جھکا اور بکا نہیں ۔۔۔۔۔آپ کو بتائیں کہ مسکین اللہ خان اور انکا بھائی نسیم اللہ خان کل میانوالی پولیس کی بھاری نفری اور 6 تھانوں کی پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں جان بحق ہوئے ہیں ۔ جسکی اب پولیس کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے ، کہنے کو تو مسکین اللہ خان پر متعدد مقدمات درج تھے جن میں د۔ہشت گردی اور پولیس مقابلوں سمیت غالبا ڈ۔کیتی کے مقدمات بھی تھے لیکن حقیقت میں مسکین اللہ نہ قا۔تل تھا نہ ڈ۔کیت اور نہ د۔ہشت گرد ۔ ۔۔ مسکین اللہ سالوں قبل پاک فوج کا ایک جوان تھا مگر بعد میں بوجوہ مسکین اللہ فوج کی نوکری چھوڑ کر آگیا ، انکی خاندانی دشمنی بھی کئی سال رہی لیکن وہ دشمنی اب صلح میں بدل چکی تھی ۔ ماضی قریب میں مسکین اللہ کا تنازعہ داؤد خیل میں قائم میپل لیف سیمنٹ فیکٹری سے زمین پر قبضے کا تھا ۔ سیمنٹ فیکٹری نے جو زمین افراد یا حکومت سے خریدی اس سے زیادہ اپنی حدود بڑھا لیں ۔ فیکٹری کے ارد گرد جہاں دل چاہتا قبضہ جما لیا جاتا ۔ مسکین اللہ کا تنازعہ اسی فیکٹری کے کرتا دھرتاؤں سے تھا ۔ ایک طرف ایک عام سا نوجوان اور علاقے میں اسکے کچھ حامی تھے جنکے پاس نہ وسائل تھے اور نہ طاقت دوسری جانب سیمنٹ فیکٹری یا سرمایہ دار تھے جنکے ایک اشارے پر حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ، جب مسکین اللہ اور انکے ساتھ فیکٹری انتظامیہ کے اس ظلم اور حد سے تجاوز پر عدالت میں گئے تو عدالت نے سٹے آرڈر دے دیا لیکن بجائے اسکے کہ فیکٹری انتظامیہ سٹے آرڈر کا احترام کرتی اداروں کو استعمال کیا گیا اور مسکین اللہ اور اسکے ساتھیوں پر ناجائز مقدمات درج کر لیے گئے کہ یہ مصیبت ویسے تو جان نہیں چھوڑے گی اسے کچھ عرصہ جیل بھجوا دو ۔یہی نہیں مسکین اللہ اور انکے خاندان کا گھر اور فارم ہاؤس گرا دیا گیا انہیں گھر سے بے گھر کردیا گیا اور پولیس کو استعمال کرکے انہیں ہر طرح سے گھیر لیا گیا جب مسکین اللہ کو صاف پتہ چل گیا کہ کوئی قانون اور عدالت انہیں انصاف نہیں دے سکتی تو ناحق قید کاٹنے اور عدالتوں کچہریوں کے چکر لگانے کی بجائے مسکین اللہ اور اسکے مٹھی بھر ساتھیوں نے ہتھیار اٹھا لیے ۔ یہ میانوالی داؤد خیل کے نواح میں پہاڑوں پر چلے گئے اور فیکٹری انتظامیہ کو وارننگ دے دی کہ اپنی حد میں چلے جاؤ ، غریبوں کی زمینوں پر قبضہ نہ کرو تو ٹھیک، تمہاری ہماری کوئی لڑائی نہیں ورنہ ہر قدم پر تمہیں بھر پور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسی تنازعہ پر متعدد بار مسکین اللہ اور اسکے ساتھیوں کی فیکٹری انتظامیہ اور گارڈز کے ساتھ مڈھ بھیڑ بھی ہوئی لیکن مسکین اللہ نے اپنے حق سے دستبردار ہونے سے ہمیشہ انکار کیا ۔ علاوہ ازیں علاقہ میں مسکین اللہ کی شہرت ایک اچھے اور امن پسند انسان کی تھی جو علاقے میں ہونیوالے لڑائی جھگڑوں میں ہمیشہ صلح کروانے کے لیے کوشاں رہتا تھا ۔ مگر کل دن کے وقت پولیس کی بھاری نفری نے چکڑالہ اور داود خیل کے قریب پہاڑوں پر دھاوا بول دیا اور پولیس کے بیان کے مطابق مسکین اللہ اور اسکا بھائی نسیم اللہ اپنے ساتھیوں کی فائیرنگ سے ہلا۔ک ہو گئے ۔۔۔ مسکین اللہ اور اسکے بھائی کی موت پر پورا ضلع میانوالی دکھ کا اظہار کررہا ہے یہاں تک کہ وہ لوگ جو اسکے نظریاتی مخالف تھے ، بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ مسکین اللہ کے ساتھ ظلم ہوا ، اداروں کو طاقت اور اختیار کا ایسا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ سوشل میڈیا مسکین اللہ خان اور اسکے بھائی کے لیے دعاؤں سے بھرا پڑا ہے اور زیادہ تر لوگ انہیں شہیید قرار دے رہے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔۔۔۔
آخر میں میانوالی کی ایک معروف شخصیت پروفیسر منور علی ملک کی مسکین اللہ اور اسکے خاندان بارے رائے بھی پڑھ لیں ۔۔۔۔
قیام پاکستان کے وقت شریف خیل قبیلے کا ایک جوان جس کا نام خان زمان خان تھا انگریز سرکار کا باغی یا عرف عام میں اشتہاری تھا ۔تقسیم کے دنوں میں ایک رات داؤدخیل ریلوے اسٹیشن اور ڈھیر امید علی شاہ کے درمیان خان زمان کو کچھ مشکوک لوگ نظر آئے روکنے پر پتہ چلا کہ ایک ہندو فیملی ہے جو بھاگ کر انڈیا جا رہی تھی ۔۔اس فیملی میں عورتیں بھی تھی اور وہ بھی زیورات سے لدی ہوئی ۔۔اس شریف خیل پٹھان نے اس فیملی کو روک کر کہا کہ آپ اگے نہی جا سکتے ہندو ڈر گئے انھوں نے کہا کہ ہمیں جانے دیں چاہے تو سارا زہور لے لیں لیکن خان زمان نے کہا کہ مجھے اپ سے کچھ نہیں چاہیے لیکن میں آپ کو جانے نہیں دوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ راستے میں اگر کسی نے لوٹ لیا تو ہمارا اور ہمارے خاندان کا نام بدنام ہو جائے گا۔۔اس غیرت مند آدمی نے ہندو فیملی کونہ صرف کھانا کھلایا بلکہ ساری رات ان کو سلا کر خود پہرہ دیا اور صبح کے وقت انڈیا جانے والے قافلے تک پہنچا کرآیا ۔ مسکین اللہ خان کا تعلق بھی اسی شریف خیل قبیلہ سے ہے جس قبیلہ سے خان زمان خان کا تھا جنھوں نے ہندو مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کی وہ کیسے کسی مسافر پردیسی مزدور پر گو۔لی چلا سکتے ہیں ۔۔۔ثابت ہوا کہ مسکین اللہ اس خاندان سے ہے جو غریبوں اور کمزوروں یا بے بسوں کی جان مال کا محافظ تھا لٹیرا نہیں تھا ۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم مرحومین مسکین اللہ اور نسیم اللہ شریف خیل کی مغفرت فرمائے اور انکے خاندان کو صبر دے ، بلاشبہ یہ ایک خاندان نہیں پورے علاقہ وضلع کا نقصان ہے ۔۔۔۔۔

Leave a Comment