چودہ سالہ وانگ من نے کیسے کنویں میں الٹا لٹک کر 3 سالہ بچی کی جان بچائی؟

کنویں کے اوپر ریسکیو اہلکار موجود تھے، نیچے ایک تین سالہ بچی پھنسی ہوئی تھی، مگر راستہ اتنا تنگ تھا کہ کوئی بالغ شخص اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور بچی کی آواز دھیمی پڑ رہی تھی۔

یہ واقعہ 30 نومبر 2019 کو چین کے صوبے ہینان کے شہر ہیبی میں پیش آیا۔ ایک شخص اپنی تین سالہ بیٹی کے ساتھ رشتہ داروں سے ملنے آیا تھا۔ شام کو کھانے کے بعد واپسی کی تیاری ہوئی تو بچی دکھائی نہیں دی۔ تلاش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک متروک کنویں میں گر گئی ہے۔ کنواں تقریباً 20 میٹر گہرا تھا، لیکن اس کی اندرونی چوڑائی صرف 30 سینٹی میٹر تھی۔ بچی اندر پھنسی ہوئی تھی اور اس کے والد اسے خود نکالنے سے بے بس تھے۔

اطلاع ملتے ہی فائر فائٹرز اور رضاکار ریسکیو ٹیمیں پہنچ گئیں۔ پہلے رسی نیچے اتار کر بچی کو اسے پکڑنے کی کوشش کروائی گئی، لیکن اتنی کم عمر بچی کے لیے ہدایات سمجھ کر عمل کرنا مشکل تھا۔ دبلے پتلے ریسکیو اہلکاروں کو بھی جانچا گیا، مگر ان کے کندھے اس تنگ راستے سے نہیں گزر سکتے تھے۔ کھدائی کا انتظام بھی کیا گیا، لیکن اس میں وقت لگ رہا تھا، جبکہ بچی کئی گھنٹوں سے اندر موجود تھی۔

اسی دوران امدادی کام میں شریک ایک رضاکار نے اپنے چودہ سالہ بیٹے وانگ مِن ران کا ذکر کیا، جس کی جسامت چھوٹی تھی۔ وانگ اپنی والدہ کے ساتھ موقع پر پہنچا تو پیمائش سے معلوم ہوا کہ وہ کنویں میں اتر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا؛ اسے بچانے کے لیے جانے والا بھی کم عمر تھا۔ وانگ نے خود کوشش کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ طبی معائنے اور ریسکیو اہلکاروں کی ضروری تربیت کے بعد اسے حفاظتی رسیوں سے باندھا گیا۔

پھر اسے سر کے بل کنویں میں اتارنا شروع کیا گیا۔ پہلی ہی کوشش میں بچی تک پہنچنا ممکن نہ ہوا۔ تنگ دیواریں اور راستے کی رکاوٹیں اسے آگے بڑھنے سے روک رہی تھیں۔ اہلکار اسے واپس اوپر کھینچتے، پوزیشن درست کرتے اور دوبارہ نیچے اتارتے۔ ان کوششوں کے دوران وانگ بچی کو تسلی بھی دیتا رہا کہ وہ گھبرائے نہیں، اسے بچانے کے لیے وہ دوبارہ آئے گا۔ آخرکار وہ اس کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ اسے رسی باندھ سکے۔

وانگ نے بچی کی بغلوں کے نیچے رسی مضبوطی سے باندھی، تاکہ اوپر موجود ٹیم اسے کھینچ سکے۔ خود واپس آنے کے بعد بھی اس نے فوراً اپنی حفاظتی رسیاں اتارنے نہیں دیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اگر بچی کو نکالنے میں مشکل پیش آئے تو وہ پھر نیچے جا سکے۔ پھر وہ لمحہ آیا جس کا سب انتظار کر رہے تھے: ریسکیو ٹیم نے بچی کو زندہ باہر نکال لیا۔ طبی معائنے میں معلوم ہوا کہ اسے معمولی خراشیں آئی تھیں، لیکن اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔

اس بچی تک پہنچنے کے لیے پوری ٹیم کوشش کر رہی تھی، اور اس کوشش کا اہم ترین حصہ ایک چودہ سالہ لڑکے نے مکمل کیا۔ وانگ مِن ران نے بار بار اس تنگ کنویں میں اتر کر ایک ایسی بچی کے لیے راستہ بنایا جسے وہ پہلے جانتا بھی نہیں تھا۔ اس روز اس کی ہمت اور ریسکیو ٹیم کی مشترکہ محنت سے ایک خاندان کو اپنی بچی زندہ واپس مل گئی۔

Leave a Comment