
مسرت شاہین کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا اور ان کا خاندان افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ ان کا خاندان قبائلی پس منظر رکھتا تھا اور ہجرت کے اس سفر میں ان کے بزرگوں کو کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مصباح شاہین کی پیدائش جولائی 1956ء میں ہوئی تھی۔ بچپن ہی میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد سوتیلی ماں کی طرف سے انہیں گھریلو سطح پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کا بیشتر بچپن نانیہال میں گزرا۔ انہوں نے کوہاٹ کے ایک تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کی جہاں اپنی بلند قامت اور اعتماد کی وجہ سے وہ طالبات میں نمایاں رہیں۔ لیکن پڑھائی کے دوران ہی ان پر ایک ایسی افتاد آن پڑیں کہ زندگی ویسی نہ رہی جیسی تھی۔ ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور اسی افتاد میں ان پر کم سن بہن بھائیوں کی ذمہ داری کا بوجھ آن پڑا اور وہ لاہور آگئیں۔ معاش کی تگ و دو میں جڑ گئیں۔
شوبز کی دنیا میں ان کا داخلہ ایک اتفاقی واقعے کے تحت ہوا جب وہ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں موجود تھیں اور وہاں معروف اداکار و ہدایت کار رنگیلا سے ان کی ملاقات ہوئی۔ رنگیلا نے ان میں موجود صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے انہیں اپنی فلم میں سہیلی کا کردار دیا۔ رنگیلا کے پہلی فلم میں کہنے والے کہتے ہیں کہ شوٹنگ کے دوران ہی رنگیلا کو ان کی اداکارہ اور پرفارمنس اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے اپنی دوسری فلم میں بھی انہیں کاسٹ کر لیا۔ اسی شوٹنگ کے سیٹ پر رنگیلا کیے چیف اسسٹنس اداکار بدر منیر کا آنا ہوا اور ان کی نظر بھی اس اداکار پر پڑی اور انہوں نے بھی انہیں فلم آفر کی۔ جس کا مسرت شاہین نے پورے 10 ہزار معاوضہ طلب کیا۔ اس کے بعد انہیں فلم “دلہن ایک رات کی” میں بھی کام کرنے کا موقع ملا، جس پر انہیں مالی معاوضہ بھی دیا گیا۔ اس طرح ان کا باقاعدہ فلمی سفر شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے وسعت اختیار کر گیا۔
اپنے طویل فلمی کیریئر کے دوران مصباح شاہین نے اردو، پنجابی اور پشتو زبان کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے اپنے دور کے لگ بھگ تمام نامور پاکستانی اداکاروں اور ہیروز کے ساتھ اسکرین شیئر کی جن میں محمد علی، وحید مراد، ندیم، شاہِد، غلام محی الدین، بدر منیر، آصف خان، سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی، علی اعجاز،ننھا اور رنگیلا شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر تقریباً 273 فلموں میں کام کیا۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری کے میدان میں بھی قدم رکھا اور فلم “بات بن جائے” سمیت کچھ دیگر پراجیکٹس کی خود ہدایت کاری کی۔ ان کے فنی سفر میں معروف اداکارہ و ہدایت کارہ سلما کا تعاون بھی شامل رہا۔
بعض لوگ مداحوں کا کہنا ہے کہ مسرت شاہین اپنے دور کی ب و لڈ ترین اداکارہ تھیں جن پر اکثر بولڈ ڈانس اور لباس پہننے، سین فلمانے کے طنز و الزامات لگتے رہتے تھے۔
فلمی دنیا کے بعد مسرت شاہین نے عملی سیاست اور سماجی خدمات میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے 1997ء کے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ نمبر 18 سے “سلائی مشین” کے انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا اور ہزاروں ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے سیاسی جماعت بھی بنائی جس کی وہ چیئرپرسن رہیں۔ اس کے علاوہ وہ سماجی فلاح و بہبود کے کاموں سے بھی جڑی رہیں اور معاشرے میں امن کے فروغ کے لیےایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) بھی قائم کی۔ مصباح شاہین نے ذاتی اور خاندانی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی محنت سے فلمی صنعت اور سماجی حلقوں میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
ڈسکلیمر:
نوٹ: یہ تمام تر تحریر آن لائن اور میڈیا کے دستیاب ذرائع یوٹیوب چینلز سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے جس کے اوریجنل رائٹر سرفراز فرید نہاش ہیں۔۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اور صرف عوامی معلومات، تفریح یا آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس تحریر یا اس میں درج معلومات کی درستی، جامعیت یا قانونی حیثیت کے حوالے سے ہم پر کسی بھی قسم کی اخلاقی یا قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
