کہتی تھی خرچہ دے دیا کرو اور آ جایا کرو۔۔۔

کہتی تھی خرچہ دے دیا کرو اور آ جایا کرو ۔۔۔۔!!!مانانوالہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی نوجوان نوید بائیک ریپیئرنگ کا کام کرتا تھا جب ایک بڑی عمر کی خاتون نے اسے دکان کے سامنے سے چکر لگاتے اشاروں سے اپنے چکر میں پھنسا لیا ۔ خاتون کا نام پروین اور عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی ، اسکے چار بچے تھے سب سے بڑا بیٹا 21 سال کا تھا اکثر یہ خاتون بازار آکر نوید کو اشارہ کرتی اور پھر اسے اپنے گھر لے جاتی ، کچھ ہی ہفتوں میں ناجائز پیار کا یہ رشتہ مضبوط ہو گیا ، پروین نے نوید سے صاف کہہ رکھا تھا میرا شوہر مجھے خرچہ نہیں دیتا تم مجھے خرچہ دے دیا کرو اور جب مرضی آجایا کرو ۔۔ نوید نے باقاعدگی سے آنا جانا شروع کردیا ، صرف خرچہ ہی نہیں یہ پروین کے ایک بیٹے کو جو کہ اس سے عمر میں سال دو سال بڑا تھا ، اسے بائیک کا کام بھی مفت کردیتا ، ایک بار خلوت کے لمحات میں پروین نے نوید سے کہا کسی طرح میرے شوہر سے میری جان چھڑا دو ، نوید نے کہا ٹھیک ہے تم اس سے عدالتی خلع لے لو میں تم سے شادی کر لونگا ، مگر پروین نے طلاق والی بات پر توجہ نہیں دی اور کہا ، ایسے بدنامی ہوگی ، تم نواز کو ق۔ت۔ل کرنے میں میری مدد کرو یہ طریقہ زیادہ آسان ہے ، میں کچھ سوچتی ہوں تم بس میری مدد کردینا ۔۔۔ چند سال قبل وقوعہ کی رات پروین نے نوید کو فون پر اپنے گھر بلایا ، اس نے اپنے شوہر نواز کو نیند کی گو۔لیاں دے کر مدہوش کررکھا تھا ، ایک بائیک پر پروین اور نوید نواز کو درمیان میں بٹھا کر باہر لے گئے راستے میں نواز شور کرتا کہ مجھے کدھر لے جارہے ہو تو پروین کہتی تمہاری طبیعت خراب ہے ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں ۔ مانانوالہ میں بڑی نہر کے پل پر رک کر انہوں نے نواز کو دھکا دے دیا اور واپس گھر آگئے ۔رات پروین نے نوید کی خوب خاطر مدارت کی وہ وہیں رک گیا اور صبح 5 بجے اس گھر سے روانہ ہو گیا اس وقت سب بچے سو رہے تھے ، صبح 9 بجے پروین نے اپنے بڑے بیٹے کو تھانے روانہ کیا کہ باپ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا آئے ، ماں کی ہدایت کے مطابق بیٹے نے موقف اختیار کیا کہ اسکا باپ ایک لاکھ روپے لے کر کہیں گیا مگر واپس نہیں لوٹا شبہ ہے کہ اسے اغ۔وا کرلیا گیا ہے ۔ دوسرے دن کچھ کلو میٹر دور لا۔ش نہر سے برآمد ہوگئی ، تھانوں کے آپسی رابطوں سے انکشاف ہوا کہ نہر سے نکلنے والی لا۔ش نواز کی تھی ۔ دو دن کی تفتیش اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر پولیس نے نئی نویلی بیوہ پروین کو گرفتار کیا اور تھانے لائی تو اس نے صرف ایک گھنٹے میں ساری رام کہانی بیان کردی ، نوید کو بھی گرفتار کر لیا گیا 21 سالہ نوید نے من و عن اپنی محبوبہ کے بیان کی تائید کردی ۔ اپنے ایک بیان میں نوید کا کہنا تھا کہ پروین سے پیار کرتا تھا اس کے کہنے پر ق۔ت۔ل کیا ، اگر جیل سے چھوٹ گئے تو اس سے شادی کرونگا ، کیونکہ جس مقصد کے لیے اتنا بڑا کام کیا وہ بھی پورا نہ کروں تو پھر کیا فائدہ ۔۔۔۔۔ پولیس نے بھرپور چالان تیار کرکے ملزم اور ملزمہ کو جیل بھجوا دیا تھا ، قوی امکان ہے کہ دونوں اپنی سزا کے چار پانچ سال کاٹ چکے ہونگے اور بعید نہیں کہ دونوں رہا ہو کر شادی بھی کر لیں ۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment