
: ہم تمہیں نہیں بھولے رنگیلا — پاکستانی فلم انڈسٹری کا بے تاج بادشاہِ مزاح نگار رنگیلا کی روداد۔۔۔۔
کچھ لوگ صرف اداکار نہیں ہوتے، وہ ایک پورا دور بن جاتے ہیں۔ محمد سعید خان، جسے دنیا “رنگیلا” کے نام سے جانتی ہے، ان میں سے ایک تھے — ایک ایسا فنکار جس نے چار دہائیوں تک لوگوں کو ہنسایا، اور خود بھی ہر میدان میں کمال دکھایا۔
رنگیلا یکم جنوری 1937 کو پاراچنار، کرم ایجنسی (موجودہ خیبرپختونخوا) میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی ان کا خاندان پشاور منتقل ہو گیا۔ نوجوانی میں انہیں باڈی بلڈنگ کا شوق ہوا، اور بعد میں وہ روزی کمانے کے لیے لاہور آ گئے، جہاں فلمی صنعت کے لیے بل بورڈز پینٹ کیا کرتے تھے۔ قسمت نے یوں یاوری کی کہ بیس برس کی عمر میں ایک دن سیٹ پر ایک غیر حاضر کامیڈین کی جگہ انہیں کھڑا کر دیا گیا — اور وہیں سے ان کا فنی سفر شروع ہو گیا۔
باقاعدہ کیریئر کا آغاز 1956 کے لگ بھگ ایک پنجابی فلم سے ہوا۔ اس کے بعد رنگیلا نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں انہوں نے 300 سے زائد (بعض ذرائع کے مطابق 500 سے زائد) فلموں میں کام کیا، اور جلد ہی لالی وڈ کے سب سے مقبول کامیڈینز میں شمار ہونے لگے۔ صرف اداکاری ہی نہیں — رنگیلا نے اپنی پروڈکشن کمپنی “رنگیلا پروڈکشنز” بھی بنائی،
ہدایتکاری بھی کی، گیت بھی لکھے، موسیقی بھی ترتیب دی، اور گلوکاری بھی کی۔ 1969 میں انہوں نے اپنی پہلی ہدایتکاری کردہ فلم “دیا اور طوفان” بنائی۔ ان کا گایا ہوا گیت “گا میرا من واں، گاتا جا رے” زبردست مقبول ہوا۔ فلم “پردہ نہ اٹھاؤ” میں انہوں نے بیک وقت تین مختلف کردار نبھائے، جبکہ “انسان اور گدھا” کے ذریعے سیاسی طنز نگاری میں بھی اپنی صلاحیت منوائی۔ وکٹر ہیوگو کے ناول “دی ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم” سے متاثر ہو کر انہوں نے فلم “کبڑہ عاشق” بھی بنائی۔
رنگیلا کو پاکستان کا “بادشاہِ مزاح” اور جنوبی ایشیا کے صف اول کے کامیڈینز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے گیارہ بار نگار ایوارڈ جیتا، اور 2005 میں صدرِ پاکستان کی جانب سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ذاتی زندگی میں رنگیلا نے تین شادیاں کیں اور ان کے چودہ بچے تھے — چھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں۔ ان کی ایک بیٹی، فرح دیبا، جوہر ٹاؤن سے پی ایم ایل کی کونسلر تھیں اور آخری ایام میں انہی کی زیرِ نگرانی رہے۔ ان کے دو بیٹے، کامران رنگیلا اور جہانزیب رنگیلا، بھی شوبز سے وابستہ رہے، مگر والد جیسی شہرت حاصل نہ کر سکے۔
زندگی کے آخری دنوں میں رنگیلا گردوں کے عارضے میں مبتلا رہے۔ 24 مئی 2005 کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 68 برس کے تھے۔..
رنگیلا کی ذاتی زندگی کے حوالے سے کچھ ان سُنی معلومات :سعید خان رنگیلا 60 کی دہائی میں فلم انڈسٹری میں وارد ہُوئے اور اپنی حرکات و سکنات اور منفرد انداز ِ کردار نگاری کیوجہ سے جلد ہی اپنی الگ شناخت بنا لی، انہوں نے 60 ،70 اور 80 کی دہائیوں میں تقریباً 300 سے زائد فلموں میں کام کیا ، اس دوران کچھ فلمیں خود بھی لکھیں ، پروڈیوس کیں ،انکی ڈائریکشن بھی دی ، گیت لکھے ،گائے اور اپنے جنوں کو جلا بخشی ،وہ بنیادی طور پر ایک جنونی آدمی تھے اور اپنے کام کی دُھن میں رہتے ۔۔۔۔ ایک معروف فلمی صحافی کے مطابق رنگیلا دل پھینک اداکار تھے ، 60 کی دہائی میں وہ اداکارہ شیریں پر لٹو تھے مگر چونکہ یہ انکا ابتدائی زمانہ تھا اس لیے شیریں نے انہیں کبھی کوئی توجہ ہی نہ دی ،معروف ولن مظہر شاہ دوران شوٹنگ انہیں شیریں کے حوالے سے چھیڑتے ،مذاق اُڑاتے اور رنگیلا پر جملے بھی کستے مگر رنگیلا نے کبھی برا نہیں منایا ، پھر رنگیلا نے 60 کی دہائی کے وسط میں اپنی پروڈکشن کمپنی بنا لی ، اب رنگیلا اپنی سلطنت کا بادشاہ تھا ،اسکی فلمیں ہٹ ہوئیں اور ہر طرف رنگیلا کی کامیابیوں کے چرچے ہو گئے ،یہ اسکے عروج کا زمانہ تھا ، ذاتی زندگی کے محاذ پر کہا جاتا ہے کہ اس نے 3 شادیاں کیں ،تینوں میں سے کسی بیوی کا تعلق شوبز سے نہیں تھا ،شوبز کی دُنیا میں سے وہ اداکارہ سنگیتا سے شادی کے شدید خواہش مند تھے مگر انکی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی ، رنگیلا نے 24 مئی 2005 کو وفات پائی تھی مگر اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل تک وہ متواتر بطور اداکار فلمی دُنیا سے منسلک رہے ، اللہ کریم فن کے اس ہر فن مولا فنکار کی بخشش فرمائیں ،آمین ۔۔۔
