
چہرے پر سنت رسولؐ سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح : اس جعلی مومن نے اپنی ماں کو اتنا بڑا دکھ اور دھوکہ دیا ہے کہ بیچاری کہیں کی نہیں رہی ۔۔۔۔۔ جہلم سوہاوہ کا رہائشی حاجی نسیم نامی یہ نامراد بیٹا اپنی بیوی کے کہنے پر مشترکہ خاندانی نظام سے علیحدہ ہونا چاہتا تھا اور آئے روز اپنا حصے کا تقاضا کرتا تھا ، گھر میں والدہ کے علاوہ دیگر بہن بھائی بھی رہتے تھے ھے ، آخر تصویر میں نظر آنیوالے بیٹے نے ماں کے سامنے شرط رکھی کہ مجھے پیسے ضرورت ہیں اور میرا حصہ بھی بنتا ہے اپنے حصے کے مطابق 25 لاکھ روپے دے دو میں اپنے حق سے دستبردار ہو جاؤں گا پھر آپ سے مطالبہ نہیں کرونگا ۔۔۔ گھر اور باقی بچوں کی خاطر ماں نے شرط مان لی کچھ زمین بیچ کر ایک سرکردہ معتبر شخصیت کے ذریعے حصے سے زیادہ یعنی 30 لاکھ روپے بیٹے کے حوالے کردیے ، غلطی یہ کی کہ کوئی تحریر یا اشٹام نہ لکھوایا ، کچھ ماہ گزرے تو اس شخص نے اپنی بوڑھی ماں کے مکان پر قبضہ کر لیا جس میں اس نے پوری زندگی گزاری تھی ، یہاں تک کہ اسے اس کمرے سے بھی نکال دیا جس میں خاتون کی رہائش تھی ۔ اس بیٹے کے بقول اب اسکا حصہ اسے مل گیا ہے اور یہ گھر اسکا ہے ، بحث کرنے پر یہ سب کو ق۔ت۔ل کی د۔ھمکیاں دیتا ۔ یہاں تک تو قابل برداشت تھا کہ بیٹے پیسے ڈکار گیا تھا اور گھر میں رہ رہا تھا مگر پھر اس نے اسی گھر پر مکمل قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا ، ماں کی تذلیل کرنے لگا اور دوسرے بھائی بہنوں کو گھر سے نکل جانے کو کہنے لگا ۔ یہ اکثر تلخ کلامی کے دوران اپنی بیوی کو کہتا جاؤ میرا ریوالور نکال کر لاؤں انکو فا۔ئیر مارتا ہوں ۔۔۔۔۔ کسی نقصان سے بچنے کے لیے یہ ماں اتنی مجبور ہے کہ اب سوشل میڈیا پر دہائیاں دے رہی ہے کہ کوئی اسکے ناخلف اور لالچی بیٹے کو راہ راست پر لے آئے اسے حرام حلال کا فرق بتائے اور دوسروں کے حق پر نظر رکھنے کا گناہ بتائے ، کوئی اللہ کا بندہ اس مصیبت سے اسکی جان چھڑا دے اس سے پہلے کہ یہ بے ایمان کسی روز سوتے میں اپنی ماں کا گلا ہی گھونٹ دے ۔۔۔۔۔۔۔
