
شاہد اپنا گھر بنا رہا تھا، لیکن تعمیر کے دوران ایک ایسا وقت آ گیا جب پیسے کم پڑ گئے اور کام آگے بڑھانا مشکل ہو گیا۔ گھر مکمل کرنے کی خواہش اپنی جگہ تھی، مگر وسائل کی کمی اس کے راستے میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ اسی خاندان میں اس کا بڑا بھائی بھی تھا، جس کا کمرشل ٹرانسپورٹ کا اچھا خاصا کاروبار چل رہا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے گھر کی تعمیر پیسوں کی وجہ سے رکی ہوئی ہے تو اس نے اس مشکل کو اپنے بھائی کی اکیلے کی پریشانی نہیں سمجھا۔ وہ اس کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھا، لیکن اس نے جو قدم اٹھایا، اس کی قیمت اسے اپنی روزی اور کئی مہینوں کی بے روزگاری کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
بڑے بھائی نے اپنا کاروبار اور گاڑیاں بیچ دیں اور ان سے حاصل ہونے والی ساری رقم شاہد کے گھر پر لگا دی۔ جن گاڑیوں سے اس کا روزگار وابستہ تھا، وہ اس نے چھوٹے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قربان کر دیں۔ چھوٹے بھائی کے گھر کا کام تو آگے بڑھ گیا، مگر خود بڑا بھائی پانچ سے چھ ماہ تک بے روزگار رہا۔ کسی عزیز کی مدد کے لیے اپنی آمدن میں سے کچھ رقم دے دینا بھی محبت ہے، لیکن یہاں ایک بھائی نے اپنی کمائی کا ذریعہ ہی دوسرے بھائی کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ اس قربانی میں صرف پیسے شامل نہیں تھے؛ اس کے ساتھ وہ کاروبار بھی تھا جس سے اس کا اپنا گزارہ ہوتا تھا۔ شاہد کے لیے یہ بات بھلا دینا ممکن نہیں تھا کہ اس کے گھر کی تعمیر میں بڑے بھائی کی کتنی بڑی قربانی شامل ہے۔
پھر وقت بدلا اور شاہد کے حالات بہتر ہونے لگے۔ جب اس کے پاس پیسے آئے تو اس نے اپنے بڑے بھائی کے لیے کچھ خاص کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک نئی کار خریدی، مگر یہ بات بڑے بھائی سے ہی نہیں، گھر کے باقی افراد سے بھی چھپا کر رکھی تاکہ سرپرائز برقرار رہے۔ جس بھائی نے اس کی ضرورت کے وقت اپنی گاڑیاں بیچ دی تھیں، اب شاہد اسی بھائی کے لیے ایک گاڑی لے کر آیا تھا۔ یہ تحفہ اس محبت کا اظہار تھا جسے وہ اپنے دل میں لیے ہوئے تھا؛ ایک موقع تھا اپنے عمل سے یہ بتانے کا کہ مشکل وقت میں دیا گیا ساتھ اسے آج بھی یاد ہے۔
سرپرائز کے دن شاہد نے بڑے بھائی کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور اسے گھر سے باہر لے آیا۔ بڑے بھائی کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ سامنے کیا کھڑا ہے۔ پھر شاہد نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے تو سامنے ایک نئی کار موجود تھی۔ جب بڑے بھائی کو پتا چلا کہ یہ گاڑی اس کے لیے خریدی گئی ہے تو وہ حیرت اور خوشی سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہاں موجود ان کی والدہ اور دوسرے بھائی بھی آبدیدہ ہو گئے۔ ایک بھائی نے ضرورت کے وقت اپنا روزگار قربان کیا تھا، اور دوسرے نے حالات سنبھلتے ہی اس قربانی کو محبت سے یاد کیا۔ اس لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پہنچی تو بہت تیزی سے پھیل گئی اور اسے دیکھنے والے بھی ان بھائیوں کے تعلق سے متاثر ہوئے۔
اردو پوائنٹ کو دیے گئے انٹرویو میں شاہد نے بتایا کہ لوگوں کی طرف سے تقریباً ننانوے فیصد مثبت تبصرے آئے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کے لیے دعائیں کیں۔ شاہد نے یہ بھی کہا کہ وہ جو کچھ کر سکا، اسے اپنی والدہ کی دعاؤں کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ یہ چار بھائیوں کی مشترکہ فیملی ہے، جو اپنی والدہ کے ساتھ اکٹھی رہتی ہے۔ ان کے گھر کا روزانہ کا معمول ہے کہ سب بھائی صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا اپنی والدہ کے کمرے میں بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ وہ اپنی خوشیاں، پریشانیاں اور زندگی کے معاملات ایک دوسرے سے بانٹتے ہیں۔ اس خاندان کی قربت اس ایک وائرل ویڈیو سے پہلے بھی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔
انٹرویو کے آخر میں بڑے بھائی نے ایک مختصر پیغام دیا: ’’اتفاق میں برکت ہے۔‘‘ اس نے بھائیوں کو پیار اور محبت سے مل جل کر رہنے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان دونوں بھائیوں کی کہانی میں اس پیغام کی عملی مثال بھی موجود ہے۔ ایک نے چھوٹے بھائی کی مشکل آسان کرنے کے لیے اپنا کاروبار بیچ دیا، اور دوسرے نے اپنے حالات بہتر ہونے پر بڑے بھائی کی قربانی کو فراموش نہیں کیا۔ گاڑی کا تحفہ اپنی جگہ قیمتی تھا، مگر اس کے پیچھے موجود احساس اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھا: جس بھائی نے مشکل میں میرا ہاتھ تھاما، خوشی کے وقت میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں۔
