ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد شہر میں مستقبل بنانے کی بجائے واپس پسماندہ صحرا میں جاکر اونٹ پر مستحق مریضوں کا علاج کرنی والے پاکستانی ہندو با تھی سنگھ۔۔۔

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع اچھڑو تھر ایسا دشوار گزار سفید صحرا ہے جہاں اُس وقت نہ پختہ سڑکیں تھیں، نہ مناسب مواصلاتی نظام اور نہ ہی قریب کوئی بڑا ہسپتال۔ سنگین نوعیت کے مریضوں کو کھیپرو یا سانگھڑ پہنچانے کے لیے 70 سے 100 کلومیٹر کا سفر، تقریباً دو گھنٹے کا انتظار اور پانچ ہزار روپے تک کرایہ درکار ہوتا تھا—جو مویشی پال کر گزارا کرنے والے بیشتر خاندانوں کی استطاعت سے باہر تھا۔

اسی صحرا کے گاؤں ربلاو میں پیدا ہونے والے ہاتھی سنگھ بچپن سے بیمار انسانوں اور جانوروں کو علاج نہ ملنے کے باعث مرتے دیکھتے رہے۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ خاندانی مویشی بانی سنبھالیں، مگر ہاتھی سنگھ نے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ غربت کے باعث حیدرآباد میں رہائش اور تعلیم کا خرچ برداشت کرنا ممکن نہ تھا، اس لیے انہوں نے چھوٹے موٹے کام کرکے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ 1997ء میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو پہنچے اور ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد شہر میں اپنا مستقبل بنانے کے بجائے واپس اپنے پسماندہ صحرا لوٹ آئے۔

اچھڑو تھر میں سڑک نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر ہاتھی سنگھ کو ایک اونٹ فراہم کیا گیا، جس پر پٹیاں، جراثیم کش دوا، درد کش ادویات، ڈرپس اور سرنجیں لاد دی گئیں۔ یوں صحرا کا روایتی سفری جانور ایک چلتی پھرتی طبی امدادی گاڑی—یعنی “اونٹ ایمبولینس”—بن گیا۔ ڈاکٹر سنگھ اسی اونٹ پر ریت کے بلند ٹیلے عبور کرتے ہوئے دور دراز بستیوں میں پہنچتے اور روزانہ بعض اوقات 30 مریضوں تک کا علاج کرتے تھے۔

وہ پورے اچھڑو تھر کے واحد ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور تقریباً چار ہزار مربع کلومیٹر علاقے کو طبی سہولت دینے والی واحد سرکاری ڈسپنسری کے معالج بھی بنے۔ غریب مریض فوری طور پر فیس ادا نہ کر سکتے تو وہ کبھی تقاضا یا بحث نہیں کرتے تھے؛ کوئی فصل یا مویشی فروخت کرنے کے بعد کچھ دے دیتا اور جس کے پاس کچھ نہ ہوتا، اس کا علاج بھی کردیا جاتا۔

بعد میں انہیں سرکاری ڈسپنسری کے ساتھ ایک جیپ مل گئی، مگر ایندھن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں ان کا اونٹ ہی دوبارہ ایمبولینس بن جاتا۔ ڈاکٹر ہاتھی سنگھ نے ثابت کیا کہ خدمت کے لیے جدید گاڑیوں اور بڑے ہسپتالوں سے پہلے ایک درد مند دل اور مریض تک پہنچنے کا عزم ضروری ہوتا ہے۔ جس صحرا میں مریض ڈاکٹر تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہاں یہ ڈاکٹر خود اونٹ پر سوار ہوکر مریضوں کے دروازوں تک پہنچ گیا۔

نوٹ: روڈز اینڈ کنگڈمز⁠ نے سات برس جبکہ ایکسپریس ٹریبیون⁠ نے تقریباً دس برس کی خدمت لکھی ہے۔

7

Leave a Comment