ایسا کہاں سے لائیں ،کہ تجھ سا کہیں جسے : پرانے لوگ کہا کرتے تھے اللہ بدنسل اور گھٹیا دوست تو کیا دشمن بھی کسی کو نہ دے ۔۔۔۔۔ میانوالی کے ایک نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ملک حاکم خان کے بارے میں سو فیصد یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ساری زندگی دشمنی نبھائی لیکن ایسے اصولوں پر کہ جنہیں انکے ہم زمانہ لوگ آج بھی یاد کر کے رو پڑتے ہیں ۔سچا اور مشہور واقعہ ہے کہ مخالفین کی زمینیں ملک حاکم خان کے گھر سے ایک کلومیٹر دور اور انکی زمینوں سے متصل تھیں ۔ ملک حاکم خان کے گھر پر ایک چوبارہ تھا جس میں سارا دن گزارتے اور خود اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے دور دور تک نظر رکھتے تھے ، ایک لانگ رینج کی رایفل ہمیشہ انکے پاس ہوتی مگر جب مخالفین اپنے کھیتوں میں کام کرنے آتے اور تسلی ہوتی کہ عورتیں بھی انکے ساتھ ہیں اور صرف کھیتی باڑی کے لیے آئے ہیں تو چوبارے سے اتر کر نیچے آجاتے ، اپنے نوکروں کو حکم دیتے ” پانی کے مٹکے سر پر اٹھاؤ اور انکو پانی دے آؤ کہیں دشمنی کی وجہ سے سارا دن پیاسے نہ رہیں ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں یعنی آج سے پچاس سال پہلے اس علاقے میں پانی کے کنویں ہوتے تھے جو کئی کئی کوس دور ہوتے تھے ۔ مرحوم ملک حاکم خان نے دشمنی میں بھی وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دیا ، علاقے میں غمی خوشی پر مخالفین کے گھروں کی عورتیں انکے گاؤں اپنی رشتہ داری میں آتی جاتی تھیں اور انکا مخالفین کے لیے پیغام تھا کہ دشمنی ہماری ہے اور مرد وہ ہوتا ہے جو بہنوں بیٹیوں کا احترام کرے اور انکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ ملک حاکم خان کا ایک معمول یہ بھی تھا کہ خاندان بھر سے کوئی بھی رشتہ دار خاتون بہن بیٹی انکے گھر آئی تو انہوں نے اسے خالی ہاتھ کبھی نہ لوٹایا ۔ کھانے کی کوئی چیز ، کپڑے یا 100 ،50 روپیہ اسکے ہاتھ پر ضرور رکھا ۔۔۔ کہتے تھے یہ اچھے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے کہ بہن بیٹی انکے گھر سے خالی ہاتھ کبھی نہ جائے ۔۔ش۔ س۔ م۔۔ ایک بار انہیں کسی مخبر نے اطلاع دی کہ مخالف فلاں وقت فلاں راستے سے ہر صورت گزریں گے ۔ یہ گھات لگا کر اس راستے پر بیٹھ گئے مگر دیکھا کہ مخالفین کے ساتھ انکی عورتیں اور بچے بھی ہیں تو ملک حاکم خان اور انکے ساتھی گھات والی جگہ پر زمین پر بیٹھ گئے تاکہ کسی کو انکی موجودگی کا پتہ نہ چلے ۔ ان لوگوں جانے دیا اور پھر واپس گھر آگئے ۔۔۔۔۔ 1950 سے شروع انکی اس طویل اور خوفناک دشمنی کا اختتام 1998 میں ایک صلح پر ہوا تھا ، آج دونوں خاندان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں ، یاد رہے کہ ملک حاکم خان2014 میں انتقال کر گئے تھے ۔ دعا ہے اللہ کریم انکے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔
