
یہ 1995 کی بات ہے۔ پشاور کے رہائشی عزیز الرحمان لوہار کا کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ انہوں نے پاراچنار کے ایک شخص سے 8 ہزار روپے قرض لے رکھا تھا۔ قرض دینے والا شخص اکثر ایک پولیس حوالدار کے ساتھ ان کے گھر آتا اور پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا تھا۔ ایک جمعہ کے دن عزیز الرحمان کا تقریباً پانچ سے چھ سالہ بیٹا بلال گھر کے باہر نلکے پر نہا رہا تھا۔ اس نے صرف کالی شلوار پہن رکھی تھی۔ اسی دوران قرض دینے والا شخص ایک نئے حوالدار کے ہمراہ وہاں پہنچا اور بلال سے اس کے والد کے بارے میں پوچھنے لگا۔ معصوم بچے نے بتایا کہ شاید والد نانی کے گھر ہوں گے۔ وہ شخص بلال کی انگلی پکڑ کر اسے نانی کے گھر لے گیا، لیکن وہاں والد نہ ملے تو گلبرگ میں دادی کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں بھی عزیز الرحمان موجود نہیں تھے۔ بلال کے بیان کے مطابق، والد کے نہ ملنے پر اس شخص نے غصے میں پتھر اٹھا کر اسے ڈرایا۔ پانچ سالہ بچہ اس قدر خوفزدہ ہوا کہ اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ نکلا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے یہ چند قدم اسے اپنے ماں باپ سے تین دہائیوں کے لیے جدا کر دیں گے۔
خوف کے عالم میں بھاگتا ہوا بلال ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا اور ایک ٹرین میں سوار ہو گیا۔ اس کے معصوم ذہن میں یہی خیال تھا کہ وہ اٹک پہنچ جائے گا، لیکن سفر کے دوران اسے نیند آ گئی اور جب آنکھ کھلی تو وہ اپنے گھر اور شہر سے بہت دور نکل چکا تھا۔ نہ راستوں کا علم تھا، نہ کسی کا فون نمبر یاد تھا اور نہ ہی اتنی سمجھ تھی کہ خود کو واپس اپنے والدین تک پہنچا سکے۔ یوں ایک ہنستا کھیلتا بچہ اجنبی دنیا میں تنہا رہ گیا۔ بعد میں اسے ایک فلاحی شیلٹر یا یوتھ سینٹر میں رکھا گیا۔ وہاں سے اسے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں اس کی زندگی کے تقریباً آٹھ سال گزرے۔ اس کے بعد اسے ملتان کے ایک سینٹر میں بھیجا گیا اور پھر 2003 میں کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں اس نے اگلے تقریباً 22 سال گزار دیے۔ بلال کے بقول یہ زندگی آسان نہیں تھی۔ اس سے کارگو اور سامان کی لوڈنگ کا انتہائی سخت کام لیا جاتا تھا۔ وہ روزانہ آٹھ سے بارہ گھنٹے محنت کرتا اور بعض اوقات مسلسل 24 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس محنت کے بدلے اسے کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی تھی۔ کئی راتیں بھوکے پیٹ گزارنا پڑیں۔ وہ اپنی اس زندگی کو انتہائی تکلیف دہ الفاظ میں یاد کرتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے ماں کی گود، باپ کا سایہ اور بہن بھائیوں کا پیار ملنا چاہیے تھا، وہ جوانی تک اجنبی لوگوں کے درمیان محنت مزدوری کرتا رہا۔
ان تیس برسوں میں بلال کے دل سے اپنے والدین کی محبت کبھی ختم نہ ہوئی۔ اسے اپنی ماں کا چہرہ، باپ کی شفقت اور بچپن کا گھر بار بار یاد آتا تھا۔ وہ پانچ وقت نماز پڑھتا، تہجد میں اٹھتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعا کرتا کہ زندگی میں ایک مرتبہ اپنے ماں باپ سے ملا دے۔ بلال کے مطابق وہ اپنی کہانی میڈیا کے سامنے لانے سے بھی گھبراتا تھا کیونکہ اسے خوف تھا کہ لوگ اسے لاوارث کہیں گے۔ یہ لفظ اس کے دل کو بہت تکلیف پہنچاتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود اس کے ذہن میں بچپن کی کچھ نشانیاں بالکل محفوظ تھیں۔ اسے اپنی بہن کا نام حنا یاد تھا، یہ یاد تھا کہ اس کے والد لوہار ہیں، ان کا گھر ایک قبرستان کے قریب واقع تھا اور والد اس کے کپڑوں پر دل کی شکل کا ایک نشان بناتے تھے جس کے اندر انگریزی کا حرف ‘A’ لکھا ہوتا تھا، جو عزیز الرحمان کے نام کی نشانی تھی۔ یہی چند یادیں اس کی پوری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن چکی تھیں۔
دوسری طرف پشاور میں بلال کے والد عزیز الرحمان کی زندگی بھی اپنے بیٹے کی جدائی میں اجڑ چکی تھی۔ جس دن ان کا ننھا بیٹا لاپتہ ہوا، اس دن سے انہوں نے اسے تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش شروع کر دی۔ اخبارات میں گمشدگی کے بے شمار اشتہارات دیے، مختلف اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے، پولیس سے مدد مانگی اور یہاں تک کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے دفاتر کے چکر بھی لگائے، مگر ان کے بیٹے کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ان کے بیان کے مطابق، ایک وقت ایسا بھی آیا جب پولیس کی عدم توجہ سے مایوس ہو کر انہوں نے اپنے بازو اور ٹانگ پر گولیاں مار کر خود کو زخمی کرنے جیسا انتہائی قدم اٹھایا تاکہ پولیس ان کی شکایت درج کرے اور بیٹے کی تلاش میں سنجیدگی دکھائے۔ یہ ان کی شدید بے بسی اور ذہنی کرب کی ایک دردناک مثال تھی۔ وقت گزرتا رہا، دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ بلال کے چھوٹے بہن بھائی بڑے ہوتے گئے، گھر میں مزید بچے پیدا ہوئے، والدین کے بال سفید ہو گئے، لیکن ان کے دل میں اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی جگہ ہمیشہ خالی رہی۔ عزیز الرحمان کے مطابق، ایک دن وہ اس قدر مایوس ہو چکے تھے کہ سڑک پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کرنے لگے کہ یا اللہ! میں نے انسانوں کے ہر دروازے پر جا کر دیکھ لیا، اب صرف تو ہی میرے بیٹے کو واپس لا سکتا ہے۔
تقریباً 30 سال کی اس جدائی کے بعد بلال کی زندگی میں ایک اہم موڑ آیا، جب اس کی ملاقات یوٹیوبر اور سماجی کارکن ولی اللہ معروف سے ہوئی۔ ولی اللہ معروف نے بلال کی پوری داستان سنی اور اس سے بچپن کی یادوں کے بارے میں سوالات کیے۔ بلال نے اپنی بہن حنا کا نام، والد کے لوہار ہونے، قبرستان کے قریب گھر اور کپڑوں پر دل کے اندر بنے حرف ‘A’ سمیت تمام نشانیاں بتائیں۔ ولی اللہ معروف نے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی تاکہ شاید کوئی شخص اسے پہچان لے۔ پھر وہی ہوا جس کی امید بلال نے تیس برسوں سے دل میں زندہ رکھی ہوئی تھی۔ کراچی میں بلال کی بہن حنا کی نند نے یہ ویڈیو دیکھ لی اور فوراً حنا کو بھیج دی۔ حنا نے جیسے ہی ویڈیو میں اس شخص کی باتیں سنیں اور بچپن کی نشانیاں دیکھیں، اسے یقین ہونے لگا کہ یہ اس کا وہی بھائی ہے جو تین دہائیاں پہلے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس نے فوراً ویڈیو میں دیے گئے رابطہ نمبر پر بات کی۔ یوں تیس سال سے بچھڑے ہوئے خاندان کو ملانے کا سلسلہ شروع ہوا اور بلال کی بچپن کی یادیں اس کے اپنے گھر تک پہنچنے کا ذریعہ بن گئیں۔
بالآخر وہ تاریخی دن آ گیا جس کا انتظار ایک باپ، ایک ماں اور ان کے بیٹے نے اپنی زندگی کے تقریباً تیس سال کیا تھا۔ ولی اللہ معروف اپنی ٹیم کے ساتھ بلال کو لے کر پشاور میں اس کے آبائی گھر پہنچے۔ اس واپسی کی ایک انتہائی جذباتی بات یہ تھی کہ بلال نے جان بوجھ کر کالے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، کیونکہ جب وہ 1995 میں گھر سے لاپتہ ہوا تھا تو اس وقت بھی اس نے کالی شلوار پہن رکھی تھی۔ تیس سال پہلے گھر سے نکلنے والا پانچ چھ سالہ بچہ اب ایک جوان آدمی بن کر واپس آ رہا تھا۔ جس باپ نے اسے بچپن میں گود میں اٹھایا تھا وہ بوڑھا ہو چکا تھا، جس ماں نے اسے سینے سے لگایا تھا اس کی آنکھیں انتظار میں برسوں گزار چکی تھیں۔ جب بلال اپنے والدین کے سامنے پہنچا تو تین دہائیوں کی جدائی گلے ملنے کے ان چند لمحوں میں سمٹ آئی۔ وہ اپنے والدین سے لپٹ گیا، اپنی بہنوں سے ملا اور ان چھوٹے بھائیوں سے بھی ملاقات کی جو اس کے لاپتہ ہونے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ایک ایسا خاندان جس نے اپنے بچھڑے ہوئے بچے کے لیے زندگی کے تیس سال انتظار میں گزار دیے تھے، بالآخر دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے تھا۔
اس واقعے کا سب سے جذباتی پہلو یہ ہے کہ بلال نے تیس برس تک اپنے والدین سے ملنے کی دعائیں مانگیں اور دوسری طرف اس کے والد بھی اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہے۔ پھر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو، بہن کی پہچان اور ولی اللہ معروف کی کوششوں نے ان کے درمیان حائل تین دہائیوں کا فاصلہ ختم کر دیا۔
اللہ تعالیٰ ولی اللہ معروف اور ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانے کے لیے کوششیں کرتے ہیں، اور ہر اس ماں باپ کو ان کی اولاد سے ملا دے جو آج بھی اپنے کسی پیارے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
