ایک بچہ دو مرتبہ پیدا ہوگیا آخر یہ کیا ماجرا ہے

سوچیے، ایک ایسا بچہ جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ایک انتہائی غیر معمولی اور پیچیدہ طبی صورتحال سے گزرے، اور ڈاکٹروں کو اس کی ماں کی جان بچانے کے لیے ایک ایسا فیصلہ کرنا پڑے جس کا تصور بھی عام انسان کے لیے حیران کن ہے۔ ڈاکٹروں کو عارضی طور پر ماں کی بچہ دانی جسم سے باہر نکالنی پڑے، جبکہ اس کے اندر بچہ موجود ہو، اور اس کے باوجود بچہ محفوظ رہے۔ یہ کسی فلم کی کہانی نہیں بلکہ برطانیہ میں پیش آنے والا ایک حیران کن طبی واقعہ ہے۔

برطانیہ سے سامنے آنے والی اس کہانی میں 32 سالہ لوسی آئزک حمل کے صرف 12ویں ہفتے میں تھیں۔ معمول کے ایک اسکین کے دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ لوسی کو اووری کے کینسر کا سامنا ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی کیونکہ ایک طرف ماں کی جان کو خطرہ تھا، جبکہ دوسری طرف وہ حاملہ تھیں اور ان کے پیٹ میں ایک ننھا بچہ پرورش پا رہا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر کینسر کے علاج میں زیادہ تاخیر کی جاتی اور حمل مکمل ہونے تک انتظار کیا جاتا تو لوسی کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ چنانچہ ماں اور بچے دونوں کو بچانے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ طبی منصوبہ بنایا گیا۔

حمل کے 20ویں ہفتے میں لوسی کا آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے ان کی بچہ دانی کو انتہائی احتیاط کے ساتھ جسم سے باہر نکالا، لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ بچہ اسی رحم کے اندر موجود تھا۔

یہ صورتحال طبی ماہرین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھی، کیونکہ رحم کو جسم سے باہر نکالنے کے بعد بھی بچے کو آکسیجن اور ضروری غذائی اجزا کی فراہمی برقرار رکھنا ضروری تھا۔ بچے کا تعلق رحم کی شریان کے ذریعے ماں کے خون کی فراہمی سے برقرار رکھا گیا، تاکہ بچے کو مطلوبہ آکسیجن اور غذائیت ملتی رہے۔

لیکن صرف یہی چیلنج نہیں تھا۔ ڈاکٹروں کو رحم اور بچے کا درجہ حرارت بھی محفوظ رکھنا تھا۔ اس مقصد کے لیے بچہ دانی کو گرم نمکین پیک میں احتیاط سے لپیٹا گیا۔ دو طبی ماہرین مسلسل بچے کی نگرانی کرتے رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری اقدامات کیے جاسکیں۔

بچے کا درجہ حرارت مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے گرم پیک تقریباً ہر 20 منٹ بعد تبدیل کیے جاتے تھے۔ یوں تقریباً پانچ گھنٹے تک رحم کو جسم سے باہر رکھتے ہوئے بچے کی حفاظت کی گئی۔

اس دوران ڈاکٹروں نے کامیابی سے کینسر کی رسولی نکالی۔ اس کے بعد بچہ دانی کو دوبارہ لوسی کے جسم میں واپس رکھ دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر حمل کا سلسلہ جاری رہا اور ماں اور بچے دونوں کی نگرانی کی جاتی رہی۔

آخرکار جنوری کے آخر میں لوسی نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا، جس کا نام ریفرٹی بتایا گیا۔ یوں یہ بچہ ایک انتہائی غیر معمولی طبی تجربے سے گزرنے کے باوجود بالکل محفوظ رہا۔

اس واقعے کو اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا گیا کہ بچے نے گویا دو مرتبہ دنیا میں آنے جیسا تجربہ کیا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب اسے رحم سمیت عارضی طور پر ماں کے جسم سے باہر نکالا گیا، اور دوسری مرتبہ باقاعدہ پیدائش کے وقت۔

یہ واقعہ جدید طبی سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور ڈاکٹروں کی غیر معمولی مہارت کی ایک حیران کن مثال ہے، جہاں ایک طرف ماں کی جان بچانے کے لیے فوری فیصلہ کیا گیا اور دوسری جانب رحم کے اندر موجود بچے کو بھی محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

Leave a Comment