ملتان میں تنخواہ نا ملنے پر ستھرا پنجاب ورکر کا احتجاج معزور شخص روڈ پر لیٹ گیا
ملتان میں صاف ستھرا پنجاب پروگرام کے ورکرز ایک بار پھر سڑکوں پر، تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج
ملتان میں صاف ستھرا پنجاب پروگرام سے وابستہ ورکرز ایک بار پھر اپنی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ محنت کش ورکرز کا کہنا ہے کہ وہ کئی عرصے سے اپنی محنت کی اجرت کے منتظر ہیں، لیکن بار بار احتجاج، مطالبات اور یقین دہانیوں کے باوجود انہیں ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔
احتجاج کرنے والے ورکرز کے مطابق وہ روزانہ کی بنیاد پر شہر کی صفائی اور دیگر ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔ شدید گرمی ہو یا موسم کی سختی، وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ لیکن جب مہینے کے آخر میں انہیں ان کی محنت کی اجرت نہیں ملتی تو ان کے لیے اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
ورکرز کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وہ اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ احتجاج کر چکے ہیں۔ ہر بار جب وہ اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو موقع پر متعلقہ افراد کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ ان کی رکی ہوئی تنخواہیں جلد ادا کر دی جائیں گی۔ ورکرز کے مطابق انہیں کئی مرتبہ یہی یقین دہانی سننے کو ملی، لیکن عملی طور پر مسئلہ حل نہیں ہوا اور وہ آج بھی اپنی اجرت کے منتظر ہیں۔
آج ایک بار پھر ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو بند کیا اور حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ احتجاج کے باعث سڑک پر آمدورفت بھی متاثر ہوئی، جبکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج کے دوران ایک معذور شخص بھی اپنی فریاد لے کر سڑک پر لیٹ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ ہیں، اپنے بچوں اور گھر کا چولہا چلانے کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہماری محنت کی تنخواہ ہی وقت پر نہیں ملے گی تو ہم اپنے گھروں کے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ بچوں کی ضروریات، گھر کا راشن، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات کہاں سے ادا کریں گے؟
یہ منظر اس احتجاج کی شدت اور ان محنت کشوں کی پریشانی کو واضح کرتا ہے، جو اپنی محنت کے بدلے صرف اپنی جائز اجرت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ورکرز نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی رکی ہوئی تمام تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں اور انہیں بار بار احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی تنازع یا سڑکیں بند کرنے کے خواہش مند نہیں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی محنت کا حق بروقت دیا جائے تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنے خاندانوں کا پیٹ پال سکیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر ان محنت کشوں کی آواز کب سنی جائے گی؟ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود اگر تنخواہوں کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اور سب سے اہم بات، کیا متعلقہ حکام اس مرتبہ ان ورکرز کی رکی ہوئی تنخواہیں واقعی ادا کریں گے؟
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان محنت کشوں کے مطالبات پر کب عملی اقدام کرتے ہیں اور انہیں ان کی محنت کی جائز اجرت کب ملتی ہے۔
