ملتان کے معروف ڈاکٹر پر بیوی کے سنگین الزامات، مقدمہ درج، گرفتار

ملتان سے ایک انتہائی اہم اور افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک معروف ڈاکٹر کے خلاف اس کی اہلیہ کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد، دھمکیوں اور غیر فطری جنسی تعلقات کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔خاتون کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں اپنے شوہر پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کی شادی ڈاکٹر سے 2012 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔خاتون کے مطابق شادی کے ابتدائی سال معمول کے مطابق گزر رہے تھے، تاہم جیسے ہی شوہر کے پاس پیسے آنا شروع ہوئے، مبینہ طور پر اس کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ شوہر بری عادات کا شکار ہوگیا اور اپنے کلینک میں مختلف خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر ناجائز تعلقات قائم کرنے لگا۔خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ شوہر مبینہ طور پر ان خواتین کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز بھی ریکارڈ کرتا تھا اور بعد ازاں اسے یہ ویڈیوز دکھاتا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ شوہر اس پر مبینہ طور پر غیر فطری طریقے سے جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا تھا، جبکہ انکار یا مزاحمت کرنے پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور طلاق دینے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ صورتحال کئی سال تک جاری رہی۔ اس کے مطابق وہ طویل عرصے تک حالات برداشت کرتی رہی، تاہم جب مبینہ تشدد میں اضافہ ہوا تو اس نے اپنے اہل خانہ کو صورتحال سے آگاہ کیا۔خاتون کے مطابق اہل خانہ کو معاملے کا علم ہونے کے بعد حالات مزید خراب ہوگئے اور الزام ہے کہ شوہر نے اسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا۔واقعے کے بعد خاتون نے پولیس سے رجوع کیا اور اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا۔تاہم یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایف آئی آر میں عائد کیے گئے یہ الزامات خاتون کا مؤقف ہیں اور ان کی حتمی سچائی کا تعین عدالت اور تفتیشی عمل کے ذریعے ہوگا۔ ملزم کو عدالت میں اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔اس معاملے نے ملتان میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے مقدمے کی تفتیش اور دیگر قانونی کارروائی جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تحقیقات میں کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور عدالت اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔۔

Leave a Comment