1998 میں شادی پر سسرال سے ملی موٹرسائیکل، آج بھی بالکل اصلی حالت میں موجود!
پاکستان کے معروف باکسر ایمانول ہاشم کی ایک دلچسپ بات ان دنوں سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے، اور اس کی وجہ ان کی کوئی باکسنگ فائٹ نہیں بلکہ ایک پرانی یاما موٹرسائیکل ہے۔
حال ہی میں نیو پوائنٹ پوڈکاسٹ میں ایمانول ہاشم سے جب ان کی مشہور یاما موٹرسائیکل کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آخر اس موٹرسائیکل کے پیچھے ایسی کیا کہانی ہے جو اسے سوشل میڈیا پر اتنا خاص بنا رہی ہے، تو ان کا جواب سن کر شاید آپ بھی حیران رہ جائیں۔
ایمانول ہاشم نے بتایا کہ یہ موٹرسائیکل انہیں آج سے کئی دہائیاں قبل، 1998 میں ان کی شادی کے موقع پر ان کے سسرال والوں نے تحفے میں دی تھی۔
یعنی یہ صرف ایک موٹرسائیکل نہیں بلکہ ان کی زندگی کے ایک انتہائی خاص دن کی یادگار ہے۔
ایمانول ہاشم کے مطابق شادی کے موقع پر ملنے والی اس موٹرسائیکل کو انہوں نے آج تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ وقت بدل گیا، حالات بدل گئے، لیکن اس موٹرسائیکل سے ان کی وابستگی آج بھی ویسی ہی ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ ایمانول ہاشم کا کہنا ہے کہ اس موٹرسائیکل کا انجن آج بھی جینوئن ہے۔ انہوں نے اسے صرف دکھاوے کے لیے محفوظ نہیں رکھا بلکہ اس کی باقاعدہ دیکھ بھال بھی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق تقریباً ہر ایک ہزار کلومیٹر کے بعد اس کی ٹیوننگ کروائی جاتی ہے تاکہ موٹرسائیکل اسی طرح چلتی رہے جیسے پہلے دن چلتی تھی۔
اور سب سے دلچسپ بات تو اس کے بعد سامنے آئی۔
ایمانول ہاشم نے بتایا کہ جب بھی ان کا دل کرتا ہے تو وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی پرانی یاما موٹرسائیکل پر نکل جاتے ہیں۔
شام کے وقت دونوں میاں بیوی موٹرسائیکل پر سوار ہو کر گھومنے پھرنے نکلتے ہیں۔ یوں یہ موٹرسائیکل صرف ایک پرانی چیز نہیں بلکہ ان دونوں کی زندگی کی خوبصورت یادوں کا حصہ بھی بن چکی ہے۔
آج کے دور میں جب لوگ چند سال پرانی چیز بھی تبدیل کر دیتے ہیں، وہاں تقریباً 28 سال پرانی شادی کی یادگار کو آج تک سنبھال کر رکھنا واقعی ایک منفرد بات ہے۔
ایمانول ہاشم کی اس بات نے ایک اور خوبصورت حقیقت بھی سامنے لائی کہ بعض تحفوں کی اصل قیمت ان کی مارکیٹ ویلیو نہیں ہوتی، بلکہ ان کے ساتھ جڑی ہوئی یادیں، جذبات اور رشتے انہیں قیمتی بنا دیتے ہیں۔
1998 میں سسرال کی طرف سے ملنے والی یہ یاما موٹرسائیکل آج بھی ایمانول ہاشم کے پاس موجود ہے، اس کا انجن جینوئن بتایا جاتا ہے، باقاعدگی سے اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، اور جب دل چاہے تو وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی پر سیر کے لیے نکل جاتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ یہ پرانی یاما موٹرسائیکل آج سوشل میڈیا پر صرف ایک موٹرسائیکل نہیں بلکہ محبت، یاد اور رشتے کی ایک خوبصورت کہانی بن چکی ہے۔
آپ بتائیں، اگر آپ کو بھی شادی پر ایسا کوئی تحفہ ملے جو آپ کے لیے بہت خاص ہو، تو کیا آپ اسے تقریباً 28 سال تک اسی طرح سنبھال کر رکھ سکتے ہیں؟